رسائی کے لنکس

logo-print

ہیوسٹن کی مسجد نے سیلاب کے متاثرین کیلئے اپنے دروازے کھول دئے


مسجد میں اب کچھ ہی خاندان باقی رہ گئے ہیں کیونکہ  مسجد کے رضاکار زیادہ تر خاندانوں کو اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔

ہیوسٹن میں سیلاب کا پانی رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے لیکن ڈیموں اور پانی کے دیگر ذخیروں کے قریب سے گزرتی بہت سی شاہراہیں اور رہائشی علاقے بدستور زیر آب ہیں۔ یوں سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد کو اب بھی محفوظ پناہ کی ضرورت ہے۔

ہیوسٹن میں متعدد مسجدوں نے بھی سیلاب کے متاثرین کیلئے اپنے دروازے کھول دئے ہیں اور وہ اُنہیں شیلٹر اور امداد فراہم کر رہی ہیں۔

19 ۔ سالہ سارا العزات سعودی نژاد ہیں اور وہ ایک عارضی پناہ گاہ میں وقت گزار رہی ہیں۔ وہ ابھی چارہ ماہ قبل ہی سعودی عرب سے ہیوسٹن پہنچی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’میں جہاں سے آئی ہوں ، ہمیں وہاں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا۔۔۔ میرا مطلب ہے کسی ایسے طوفان کا۔ ہم نے اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ یہ سیلاب ایک ایسا تجربہ ہے جس نے اندگی کے بارے میں اُن کا تصور ہی بدل ڈالا ہے۔

العزات اور اُن کے خاندان کو مغربی ہیوسٹن میں اپنے رہائشی علاقے سے نکلنا پڑا۔ وہ اب گریٹر ہیوسٹن کی اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اُن کی والدہ بنیادی طور پر انڈونیشیا سے ہیں جبکہ اُن کے والد کا تعلق شام سے ہے۔ العزات کے کزن بھی اسی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتے تھے جہاں العزات رہتی تھیں۔ وہ بھی اب اسی مسجد میں میں موجود ہیں۔

یہاں چھوٹے بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں جو اُنہیں مسجد نے فراہم کئے ہیں۔ بڑے افراد اپنے گھروں کو لوٹنے کیلئے بے چین ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ حکام کی طرف سے اُن کے رہائشی علاقے سے انخلاء کا حکم کب واپس لیا جائے گا۔

مسجد میں اب کچھ ہی خاندان باقی رہ گئے ہیں کیونکہ مسجد کے رضاکار زیادہ تر خاندانوں کو اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ پناہ لینے والے ایک پاکستان نژاد شخص الیاس چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ رضاکاروں کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے ہیں جو متاثرہ افراد کو اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ یہاں کی کمیونٹی میں بھائی چارے کا بہت اچھا ماحول دکھائی دے رہا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کوئی قدرتی آفت تما متر برادری کو یوں اکٹھا کر سکتی ہے۔

ہیوسٹن کا مغربی علاقہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوا۔ یہاں کے لوگ پناہ گاہوں میں آ کر بستر، کمبل اور کھلونوں سمیت بہت سے عطیات جمع کرا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے پہلی مرتبہ مسجد دیکھی ہے۔ یہاں کی ایک شہری جینا مینڈل بتاتی ہیں کہ اُنہوں نے کبھی مسجد کو اندر سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کچھ تذبذب میں تھیں کہ کس دروازے سے اندر جائیں۔ پھر ایک نوجوان عورت اُنہیں پارکنگ لاٹ میں ملی اور اُس نے اُنہیں اندر جانے کا راستہ دکھایا۔

تمام مذاہب کے لوگ انسانیت کے ناطے مسجد میں آئے تاکہ وہ دوسرے انسانوں کی مدد کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG