رسائی کے لنکس

logo-print

سوئنگ اسٹیٹ فلوریڈا بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کے لیے ہی اہم


ریاست فلوریڈا تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کی مہم کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن دونوں نے اس ریاست کے مختلف مقامات پر ووٹروں سے خطاب کیا۔

فلوریڈا ان تین ریاستوں میں شامل ہے جن کے نتائج کو تین نومبر کے الیکشن کے لیے فیصلہ کن اہمیت کا حامل خیال کیا جا رہا ہے۔ دوسری دو یاستیں اوہائیو اور پینسلوانیا ہیں جہاں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

فلوریڈا تاریخی طور ہر کئی حوالوں سے ہر الیکشن میں اہم میدان جنگ سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ چھ انتخابات میں ہر جیتنے والے امیدوار کے لیے فلوریڈا میں کامیابی وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں فتح کی ضمانت رہی ہے۔

2016 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ نے اس ریاست میں ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر فلوریڈا کے 29 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے۔

فلوریڈا کے شہر سین فورڈ میں اپنی انتخابی مہم کے موقع پر صدر ٹرمپ اپنا ماسک اتار کر فضا میںں اچھال رہے ہیں۔
فلوریڈا کے شہر سین فورڈ میں اپنی انتخابی مہم کے موقع پر صدر ٹرمپ اپنا ماسک اتار کر فضا میںں اچھال رہے ہیں۔

کسی امیدوار کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ وہ کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرے۔ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کے سیاسی نقشے پر کچھ ریاستوں کے رجحانات ریڈ یعنی ری پبلکن اور بلیو یعنی ڈیموکریٹس کے حق میں واضح ہیں۔

مگر سوئنگ اسٹیٹس کے بارے میں کوئی بھی پیشین گوئی کرنا بہت مشکل ہے اور فلوریڈا کو امریکہ کی سب سے بڑی سوئنگ اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے حامی پاکستانی امریکی ایم جے خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی کی طرح 2020 کے الیکشن میں بھی فلوریڈا میں ایک سخت مقابلے کی توقع ہے اور اس کا نتیجہ صرف کچھ ہزار ووٹوں کے فرق سے دونوں امیدواروں کے لیے قومی سطح پر جیت اور ہار کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے لیے فلوریڈا کے 29 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا وائٹ ہاؤس میں دوسری مدت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ایم جے خان جو ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں طویل عرصے سے قدامت پسند سایست کے حامی سیاست دان ہیں، کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے حق میں دو قسم کے ووٹر زیادہ ہوں گے۔ ایک عمر رسیدہ ریٹائرڈ افراد جو عام طور پر ری پبلکن پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرا کیوبا سے تعلق رکھنے والی ہسپانوی ووٹر۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن ریاست فلوریڈا میں ایک انتخابی جلسے میں تقریر کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن ریاست فلوریڈا میں ایک انتخابی جلسے میں تقریر کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فلوریڈا کو ریٹائرڈ لوگوں کی جنت کہا جاتا ہے اور ان کی تعداد ریاست کی کل آبادی میں اہم تناسب رکھتی ہے۔

چوں کہ جیت اور ہار کا فرق کچھ ہزار ووٹوں کے فرق سے متوقع ہے، اس لیے بقول ایم جے خان فلوریڈا میں مقیم امریکی مسلمان اور میامی اور آرلینڈو کے شہروں میں پاکستانی امریکیوں کے ووٹ بھی اس بار خصوصی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک سیاست دان اور نیو جرسی کی منٹگمری کاؤنٹی کی میئر صدف جعفر کہتی ہیں کہ جو بائیڈن کو دو عوامل سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ بہت سے لوگ انتخابات سے پہلے ووٹ ڈال رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح بڑھ جائے گی۔

دوسرا یہ کہ 2016 کے الیکشن کے بعد بہت سے نئے ووٹر رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن کا رجحان آبادی کے دوسرے طبقوں کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی طرف زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ فلوریڈا کی جنوبی ایشیائی برادریوں یعنی پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والے امریکی بھی اس الیکشن میں فعال نظر آ رہے ہیں۔

صدف جعفر نے کہا کہ انہوں نے فلوریڈا میں مقیم جنوبی ایشیائی امریکیوں سے خطاب کے بعد محسوس کیا ہے کہ ان کا رجحان بھی جو بائیڈن کی طرف زیادہ ہے۔

اس ہفتے کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد پینسلوانیا کے جانسٹن ٹاؤن میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خواتین ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ انہیں ووٹ دیں کیوں کہ انہوں نے اس علاقے کو بچایا تھا۔

دریں اثنا دونوں امیدواروں نے اپنے اپنے ایجنڈے بیان کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ اب الیکشن سے کچھ ہی ہفتے قبل انتخابی مہم میں گہماگہمی اور سیاسی بحث میں گرمی آ رہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ چونکہ فلوریڈا کثیرالثقافتی برادریوں کی ریاست ہے، لہذا اس کے نتیجے کے بارے میں سب سے اہم نشان دہی اس کا ماضی ہی کرتا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن کے دور سے لے کر اب تک یہاں فتح یاب ہونے والا امیدوار ہی امریکی صدر بنا ہے۔ اور اس سال بھی ایک انتہائی سخت مقابلہ متوقع ہے اور ہو سکتا ہے کہ نتیجے کا فیصلہ چند ہزار ووٹوں کے فرق سے ہی سامنے آئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG