رسائی کے لنکس

logo-print

خيبر پختونخوا ميں آٹے کا شدید بحران، نان بائیوں کی ہڑتال کی دھمکی


نان بائی ايسوسی ايشن کے صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تين ہفتوں ميں 85 کلو فائن آٹے کی بوری کی قيمت ميں تقريباً 1500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ خيبر پختونخوا ميں آٹے کا بحران شدت اختيار کر گيا ہے اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بيس کلو آٹے کی قيمت ميں 200 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جس کے پيش نظر صوبے بھر کے نان بائيوں نے ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔

خيبر پختونخوا نان بائی ايسوسی ايشن کے صدر اقبال خان کے مطابق حکومت کا فائن آٹے کے نرخ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ روٹی کی قيمت ميں اضافہ نہ کيا جائے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ گزشتہ تين ہفتوں ميں 85 کلو فائن آٹے کی بوری کی قيمت ميں تقريباً 1500 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی بنا پر نان بائی پُرانی قيمت پر روٹی فروخت نہیں کر سکتے۔

اس وقت نان بائی حکومتی نرخ کے مطابق 130 گرام روٹی 10 روپے ميں فروخت کر رہے ہيں۔

انہوں نے واضح کيا کہ حکومتی اہلکاروں سے مذاکرات جاری ہيں تاہم حکومت کے ان کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی صورت میں وہ آئندہ ہفتے سے صوبے بھر ميں مکمل ہڑتال کر ديں گے۔

صوبہ خيبر پختونخوا ميں کُل ڈھائی سو کے لگ بھگ فلور ملز تھیں ليکن موجودہ صورتِ حال ميں صرف تقريباً ڈيڑھ سو کے قريب فعال ہيں جب کہ باقی ماندہ مختلف وجوہات کی بنا پر غير فعال ہو چکی ہيں۔

نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تين ہفتوں ميں 85 کلو فائن آٹے کی بوری کی قيمت ميں تقريباً 1500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)
نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تين ہفتوں ميں 85 کلو فائن آٹے کی بوری کی قيمت ميں تقريباً 1500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

صوبہ خيبرپختونخوا کے فلور ملز ايسوسی ايشن کے چيئرمين حاجی محمد اقبال کے مطابق گزشتہ سال گندم کی پيداوار بہت کم ہونے کی وجہ سے گندم کے نرخ ميں بھی اضافہ ہوا ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ پاکستان کا صوبہ پنجاب پورے ملک کو گندم فراہم کرتا ہے۔ چونکہ گزشتہ سال بارشيں کم ہوئيں اور اپريل کے مہينے ميں جب فصل پکنے کے قريب تھی تو بارش نے کھڑی فصلوں کو شديد نقصان پہنچايا تھا جس کے باعث پورے ملک ميں گندم کی پيدوار متاثر ہوئی۔

حاجی محمد اقبال کے مطابق صوبے ميں آٹے کی قيمت ميں اضافے کی ايک وجہ بوری کی 150 روپے قيمت بھی ہے جو کسی دوسرے صوبے ميں نہیں۔

حاجی محمد اقبال کا کہنا ہے کہ انہوں نے يہ معاملہ حکومت کے سامنے اٹھايا ہے جس کی اُنہیں يقين دہائی کرائی گئی ہے۔

محمد اقبال نے مزيد بتايا کہ "صوبہ خيبر پختونخوا کی اپنی پيدوار 12 لاکھ ٹن ہے جب کہ اس کا 95 في صد دار و مدار پنجاب پر ہوتا ہے۔ چونکہ پنجاب ميں اپنی گندم کم ہوئی ہے تو وہاں سے بھی ملز والوں يا بڑے ڈيلروں کو گندم لانے ميں مشکلات کا سامنا ہے۔"

شمالی وزيرستان سے تعلق رکھنے والے صفت اللہ آٹے کا کاروبار کرتے ہيں۔ وہ حاجی محمد اقبال سے اتفاق کرتے ہيں۔

اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ميدے کے دو ٹرک کوٹ ادو سے لوڈ کرائے تھے ليکن صوبہ خيبر پختونخوا اور پنجاب کے سنگم پر واقع دريا خان کے مقام پر پوليس نے اُنہیں روکا ہوا ہے۔

محکمہ خوراک کے مطابق صوبہ خيبر پختونخوا ميں ہر سال 52 لاکھ ٹن آٹا استعمال کيا جاتا ہے۔ ماضی ميں صوبے سے ہزاروں ٹن آٹا افغانستان اسمگل ہوتا تھا ليکن حکومت اس کی سختی سے ترديد کرتی رہی ہے۔

صوبائی وزير خوراک قلندر لودھی کے مطابق معاملات اب سُلجھ گئے ہيں اور بہت جلد بحران پر قابو پاليں گے۔

قلندر لودھی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس ميں بتايا کہ اس وقت صوبے ميں 164 فلور ملز فعال ہيں اور حکومت اوپن مارکيٹ سے 4700 روپے فی بوری ميں گندم خريد کر 3700 روپے ميں فراہم کر رہی ہے۔ ليکن بدقسمتی سے قيمتيں پھر بھی کم نہیں ہو رہيں۔

انہوں نے مزيد بتايا کہ بہت جلد وہ مافيا کے خلاف ايکشن ليں گے۔

اس سوال پر کہ کیا صوبے کا کوٹہ افغانستان اسمگل ہو رہا ہے؟ انہوں نے واضح کيا کہ بارڈر مينجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد افغانستان کے ساتھ منسلک سرحد مکمل طور پر سيل ہے اور صوبے سے کسی بھی طرز پر گندم کی ترسيل وہاں نہیں ہو رہی۔

انہوں نے مزيد بتايا کہ ضلعی انتظاميہ کے تعاون سے صوبے کے مختلف علاقوں ميں ٹرک کھڑے کريں گے جو 800 روپے ميں 20 کلو آٹے کا تھيلا فروخت کريں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG