رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک میں پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ


بھارت نے اس ماہ کے آخر میں نیویارک میں شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی ملاقات کو منسوخ کردیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو معاملات میں تکلیف دہ پیشرفت ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں پاکستان کے حمایت یافتہ افراد کی جانب سے بھارتی سیکورٹی اہلکاروں کا قتل اور پاکستان میں نئے بیس ڈاک ٹکٹوں کی اشاعت جس میں ایک کشمیری عسکریت پسند کی تحسین کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا بدی پر مبنی ایجنڈا واضح ہوگیا ہے اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا عہدہ سنبھالنے کے چند ماہ کے اندر حقیقی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے ساتھ کوئی بامقصد بات چیت نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جیو نیوز ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ بھارتی کابینہ میں یکجہتی اور یکسوئی نظر نہیں آتی۔ "عالمی رائے عامہ میں پاکستان کو امن کے خواہاں ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ بھارت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے اور اسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے‘‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’’پاکستان ایک قدم کے جواب میں دو قدم اٹھانا چاہتا تھا۔ لیکن بھارت پہلے قدم میں ہی لڑکھڑا گیا ہے‘‘۔

اسلام آباد میں تجزیہ کار پرویز ہودبھائی نے کہا ہے کہ ’’پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ ایک عرصے سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس ملاقات کے اعلان کے بعد امید ہوچلی تھی کہ مذاکرات کے بعد صورتحال دوبارہ بہتری کی طرف جائے گی‘‘۔

سرینگر سے ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے اس اعلان پر کہ وزیرِ خارجہ سشما سوراج کی پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ رواں ماہ کے اختتام پر ہونے والی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے، ’’بھارتی زیرِ انتطام کشمیر میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق، ’’بھارت نواز اور استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں دونوں نے کہا ہے کہ طرفین کے درمیان آپسی مسائل کو حل کرنے کے لئے بات چیت کا ہونا ناگریز ہے‘‘۔ بقول اُن کے، ’’اور، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو جنوبی ایشیا کے خطے میں دائمی امن قائم کرنے اور تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کا فیصلہ خاص طور پر کشمیری عوام کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے‘‘۔

نئی دہلی سے ’وی او اے‘ کے نمائندے نے خبر دی ہے کہ بھارت نے رواں ماہ کے اواخر میں نیویارک میں ہونے والی بھارت پاکستان وزرائے خارجہ کی مجوزہ ملاقات رد کر دی ہے۔ اِس ضمن میں بھارت کا کہنا ہے کہ ’’اس دوران دو پریشان کُن واقعات ہوئے ہیں۔ ایک بھارتی سیکورٹی جوان کی وحشیانہ ہلاکت اور دوسرے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈاک ٹکٹوں کا اجرا۔ لہٰذا، ایسے میں کوئی بھی بات چیت بے معنی ہوگی‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG