رسائی کے لنکس

logo-print

تارکین وطن کے بحران پر یورپی یونین کے وزرا کا اجلاس


اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے متنہ کیا ہے کہ یہ بحران مزید سنگین اور یورپی ملکوں کے مابین تناؤ کی وجہ بنتا جا رہا ہے یہ مذاکرات "آخری موقع" ہو سکتے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ منگل کو ایک اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں جس کا مقصد ہر ملک میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو بسانے کے متنازع کوٹے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

گزشتہ ہفتے یورپی پارلیمنٹ نے اس مجوزہ منصوبے کی منظوری دی تھی لیکن مشرقی یورپ کے بعض ممالک نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے متنہ کیا ہے کہ یہ بحران مزید سنگین اور یورپی ملکوں کے مابین تناؤ کی وجہ بنتا جا رہا ہے یہ مذاکرات "آخری موقع" ہو سکتے ہیں۔

کروئیشیا کی سرحد پر پیر کو مہاجرین کا ہجوم تھا مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا۔ کچھ کا خیال تھا کہ ان کی انگلیوں کے نشان لیے جائیں گے جبکہ دیگر کا خیال تھا کہ ان کی صرف تصاویر لی جائیں گی، انہیں کھانا فراہم کیا جائے گا، آرام کی جگہ دی جائے گی اور پھر ان کی منزل کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دوسرے علاقوں سے آنے والے مہاجرین کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ ان کی انگلیوں کے نشان کہاں لیے جائیں گے کیونکہ ایک مرتبہ کسی کی انگلیوں کے نشان لے لیے جائیں اور کا پناہ گزین کے طور پر اندراج کر دیا جائے تو پھر وہ اس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتے۔

بہت سے پناہ گزینوں کا خیال ہے کہ معلومات میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ حکومتوں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ انہیں کرنا کیا ہے۔

اگر بہت سے لوگوں کو بغیر قانونی داخلے کے ملک سے گزرنے دیا جائے تو یہ سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اگر انہیں سرحد پر روک دیا جائے تو اس سے انسانی بحران پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات سرحدوں پر تناؤ کی صورتحال پیدا کر دیتا ہے۔

مہاجرین کے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے آگے بڑھنا، کیونکہ وہ جس علاقوں سے جنگ، غربت اور انتہا پسندی سے بچ کر آئے ہیں وہاں واپس نہیں جا سکتے۔

یورپ یا تو ان کے لیے جگہ بنا سکتا ہے یا انہیں باہر رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پیر کو یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مہاجرین اور تارکین وطن سے مناسب سلوک کریں کیونکہ ان میں سے بہت سوں نے ظلم، جنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے فرار کے لیے بہت سخت سفر کیا اور مشکلات جھیلی ہیں۔

پیر کو ہنگری کی پارلیمان نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس میں حکومت کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوج تعینات کرے۔ اس قانون میں فوج کو بھی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے غیر مہلک طاقت کا استعمال کر سکتی ہے جس میں ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔

ہنگری نے تارکین وطن کا راستہ روکنے کے لیے سربیا کی سرحد پر ایک باڑ تعمیر کی ہے اور سرحد کا باقاعدگی سے گشت شروع کیا ہے جس کے بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے۔

ہنگری میں داخلہ بند ہونے کے بعد ہزاروں پناہ گزین کروئیشیا میں داخل ہو گئے ہیں جہاں سے ان کو واپس ہنگری کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ اس مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیاں تلخ کلامی بھی ہوئی ہے جس سے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یورپی اقوام اس مسئلے کا کوئی جامع حل تجویز کریں۔

ہنگری نے کہا ہے کہ باڑ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد وہ سرحد بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور کوئی بھی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوا تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مہاجرین کو بغیر اندراج اور انگلیوں کے نشان لیے آگے نہیں جانے دے گا۔

بان کی مون اس ماہ کے آخر میں نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پناہ گزینوں کے مسئلے پر بات کریں گے۔

ادھر فن لینڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ سویڈن سے آنے والے مہاجرین سے نمٹنے کے لیے سرحدی کنٹرول شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سال 12,000 پناہ گزین فن لینڈ پہنچ چکے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق عراق سے ہے۔

XS
SM
MD
LG