رسائی کے لنکس

logo-print

جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینے کا مطالبہ


جبری لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ، فائل فوٹو

انسانی حقوق کی ایک اہم غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان یعنی’ ایچ آر سی پی’ نے پاکستانی حکومت سے جبری گم شدگی کو قانونی جرم قرار دینے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے یہ مطالبہ جبری گم شدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا ہے جس میں انسانی حقوق کی تنظیم نے دنیا بھر بشمول بھارت کے زیر اتنطام کشمیر میں جبری طور پر لاپتا افراد سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے اس کے ساتھ پاکستان میں ان تمام مبینہ حراستی مرکز کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے جہاں تنظیم کے مطابق جبری طور پر گم شدہ افراد کو مبینہ حراست رکھا جاتا ہے۔

ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق،‘‘ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ان حراستی مراکز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جس میں کسی بھی فرد کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اسے کس الزام کے تحت زیر حراست رکھا گیا ہے۔’’

بیان کے مطابق کسی بھی ملزم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ وکیل کی سہولت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان سے رابطہ رکھ سکے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے ملک کے مختلف علاقوں سے جبری گم شدگیوں کے منظر عام پر آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی روک تھام کے لیے جبری گم شدگی کو قانونی جرم قرار دینے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور ماہر قانون کامران عارف کا کہنا ہے کہ جبری گم شدگی سے متعلق قانون وضع کرنے کا اقدام ان کے بقول ‘‘ ان واقعات کو ختم کرنے کی طرف پہلا قدم ہو گا۔’’

تاہم یہ قانون کس حد تک موثر ہو گا ؟ کامران عارٖف کے بقول اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس قانون کا دائرہ کار کیا ہو، اور اس کے تحت تفتتیشی اداروں کو کیا اختیار حاصل ہوں گے۔’’

تاہم کامران عارف کا کہنا ہے،‘‘ ایسا قانون بننے کے بعد گم شدہ افراد کے اہل خانہ کے لیے جبری طور لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے ایک قانونی راستہ فراہم ہو سکے گا۔’’

یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے 2011ء میں لاپتا افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک کمشن تشکیل دیا تھا۔ رواں سال جون کے آخر تک کمشن تقریباً چار ہزار لاپتا افراد کے معاملات کو نمٹا چکا تھا جب کہ 2200 سے زیادہ شکایات کمشن میں زیر التوا ہیں۔

تاہم ہیومن رائٹس کمشن کے سربراہ مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جبری طور گم شدہ افراد سے متعلق سرکاری اعداد و شمار لاپتا افراد کے واقعات کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گم شدہ افراد کے مبینہ واقعات کا تعلق پاکستان کے مخصوص حالات سے ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام یا کسی بھی طرح کے ہنگامی حالات جبری گم شدگی کا جواز نہیں بن سکتے۔

ہیومن رائٹس کمشن کے بیان پر تاحال کسی حکومتی عہدیدار کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت نہ صرف جبری گم شدگی کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائے گی بلکہ ان واقعات کو جرم قرار دینے کے لیے قانون بھی وضع کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG