رسائی کے لنکس

logo-print

بیرون ملک جائیدادیں از خود نوٹس کی سماعت، رپورٹ عدالت میں جمع


سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں پر ازخود نوٹس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنا جواب سریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ ایف بی آر نے بیرون ممالک منتقل رقم واپسی پر بے بسی کا اظہار کر دیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاناما اور دیگر لیکس میں نام آنے والوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارہ پیشہ ورانہ رویئے اور خلوص نیت سے تحقیقات کر رہا ہے، جبکہ رقم کی واپسی اور مطلوبہ نتائج کی راہ میں قانونی میعاد کی قدغنیں حائل ہیں۔ بیرونی ممالک کے ساتھ معلومات کی فراہمی کا لیگل فریم ورک موجود نہیں۔ قانون میعاد کو قدغن کو قانون مین ترمیم سے دور کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، لیگل فریم ورک کی رکاوٹ کا دور کرنے کے لئے ایف بی آر معاہدے کر رہا ہے۔ یو اے ای حکام سے 55 پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔

29 پاکستانی ایف بی آر میں سالانہ گوشوارے جمع کرا رہے ہیں، جبکہ 31 میں سے صرف 5 نے متحدہ عرب امارات کی جائیدادوں کو گوشواروں میں ظاہر کیا۔ یو اے ای میں جائیدادیں خریدنے والوں کیخلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ایف بی آر نے بتایا کہ پاناما لیکس میں 444 پاکستانیوں میں 78افراد کے ایڈریس نہیں مل سکے، جبکہ لیکس میں شامل 366 پاکستانیوں کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں نام والے 293 افراد میں سے 232 ٹیکس دہندگان ہیں، ٹیکس فائل کرنے والوں نے آف شور کمپنیز میں سرمایہ کاری گوشواروں میں ظاہر نہیں کی اور ٹیکس دہدنگان کی اکثریت نے ہمارے اختیار کو چیلنج کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاناما لیکس کے 61 ٹیکس نادہندگان میں سے 47 نے گوشوارے داخل کرا دیئے ہیں، 72 افراد سے آف شور کمپنیز سے تعلق جبکہ 55 نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاناما لیکس میں شامل 12 افراد دنیا میں نہیں رہے، جبکہ اسی لیکس سے متعلق 41 مقدمات زیر التواء ہیں۔

پیراڈائز لیکس سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کے 38 افراد میں سے 18 ٹیکس دینے والوں میں شامل ہیں۔

20 ٹیکس نادہندگان کو نوٹسز جاری کرکے کارروائی شروع کر چکے ہیں، 20 ٹیکس دینے والوں میں سے9نے ٹیکس گوشوارے داخل کرا دیئے ہیں، چار افراد کو جرمانہ کے نوٹسز جبکہ 2 افراد کو جرمانہ کا حکم ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک بنک اکاؤنٹس اور املاک کا از خود نوٹس لیا ہوا ہے، عدالت نے مرکزی بنک سمیت متعلقہ اداروں سے ریکارڈ بھی طلب کیا ہوا ہے۔

پاکستانی پارلیمان قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی نے دبئی میں پاکستانیوں کی جانب سے گزشتہ 4 برسوں میں 8 ارب ڈالر کی جائیداد خریدنے کی تفصیلات بھی متعلقہ اداروں سے طلب کر رکھی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG