رسائی کے لنکس

logo-print

شام اور عراق جانے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ جاری


انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر نک راموسن کمیٹی کو یہ بتائیں گے کہ شام پہنچنے والے 3،400 جنگجوؤں کا تعلق مغربی ممالک سے ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کئی ماہ سے جاری فضائی حملوں کے باوجود داعش میں شمولیت کے لیے عراق اور شام جانے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔

امریکہ کی انسداد دہشت گردی کے عہدیدار بدھ کو ایوان نمائندگان کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کو یہ بتانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ 90 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20,000 غیر ملکی جنگجو اس علاقے (عراق و شام) میں جا چکے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر نک راموسن کمیٹی کو یہ بتائیں گے کہ شام پہنچنے والے 3،400 جنگجوؤں کا تعلق مغربی ممالک سے ہے اور اس میں 150 سے زائد امریکہ کے شہری یا مکین ہیں۔

اس بیان کی ایک نقل ذرائع ابلاغ کو بھی فراہم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شام پہنچنے والوں کی"اکثریت" شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں شامل ہو رہی ہے۔

مغربی عہدیدار طویل عرصے سے اس تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ خاص طور پر یورپ اور امریکہ کے پاسپورٹ کے حامل جنگجو زیادہ انتہا پسند اور اچھی طرح تربیت یافتہ ہو کر وطن لوٹنے کے بعد دہشت گرد حملے کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG