رسائی کے لنکس

پاناما کے سابق آمر نوریئگا انتقال کر گئے


مانویل نوریئگا (فائل فوٹو)

پاناما کے سابق آمر مانویل نوریئگا 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا دور بدعنوانی اور تشدد کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔

پاناما کے صدر وان کارلوس واریلا نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ نوریئگا کی موت سے "ہماری تاریخ کا ایک باب بند کر دیا" اور ان کے لواحقین کو سکون کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کرنے کا حق ہے۔

نوریئگا مختلف طبی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال میں زیر علاج رہے تھے اور رواں سال کے اوائل میں ان کے دماغ سے ایک رسولی نکالنے کے لیے ان کا آپریشن بھی کیا گیا۔

وہ 1983ء سے 1989ء تک اقتدار میں رہے۔

1989ء میں امریکی مداخلت سے نوریئگا کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا اور بعد ازاں انھیں مشیات سے متعلق جرائم میں امریکہ میں زیر حراست بھی رہنا پڑا۔ پھر غیر قانونی طریقے سے رقوم کی منتقلی کے الزام میں وہ فرانس میں قید رہنے کے بعد 2011ء میں پاناما واپس آئے تھے جہاں انھیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

دولت کے انبار جمع کر لینے کے باوجود نوریئگا نے خود کو ایک عوامی آدمی ثابت کرنے کے لیے بہت محنت کی۔ وہ ایک متوسط خاندان کی طرح دو منزلہ گھر میں رہتے تھے۔

16 سال تک ان کے پڑوس میں رہنے والے جرمن سانشز کا کہنا ہے کہ "وہ بہت احترام کے ساتھ 'ہیلو' کہا کرتے تھے۔ آپ ان کے بارے میں کچھ بھی سوچ سکتے ہیں لیکن ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے تھے۔"

2015ء میں نوریئگا نے اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے جیل سے جاری ایک بیان میں ان لوگوں سے معافی مانگی تھی جنہیں ان کے دور حکومت میں تکلیف پہنچی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG