رسائی کے لنکس

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کا قبل از وقت ریٹائر ہونے کا فیصلہ


لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر

پاکستان انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے ذاتی وجوہات کی بنا پر وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لیٖفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا کہنا تھا کہ "میری ریٹائرمنٹ سے متعلق مفروضوں سے گریز کیا جائے، ذاتی وجوہات کی بنا پر 9 اکتوبر کو یونیفارم اتار رہا ہوں۔" اگرچہ ان کی مدت ملازمت میں ایک سال کا وقت باقی تھا لیکن انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے،

ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی تحریر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا کہنا تھا کہ بھاری دل مگر مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں لیکن پاک فوج کو جب بھی میری ضرورت پڑی تو میں حاضر ہوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج میں 35 سال تک خدمات انجام دینے پر فخر ہے اور فوجی کرئیر میں تعاون و رہنمائی پر سینئرز کا شکر گزار ہوں۔

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر 7 نومبر 2014 سے11 دسمبر 2016 تک آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ اس سے قبل وہ ڈی جی رینجرز سندھ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔

بطور ڈی جی رینجرز کام کرنے کے دوران انہوں نے کراچی آپریشن شروع کیا جس میں رینجرز کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور بظاہر کراچی آپریشن میں نمایاں کامیابی کی بنا پر ہی انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر ترقی دی گئی جس کے بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا شمار فوج کے بہترین افسران میں ہوتا ہے، اپنے کرئیر کے دوران وہ اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتے رہے لیکن انہیں بطور لیفٹیننٹ جنرل کور کمان کرنے کا موقع نہیں ملا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان میں بالعموم اس رینک تک پہنچنے والے افسران اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بھی ہی سبکدوش ہوتے ہیں اور وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ عام طور پر جنرل اسی وقت لیتے ہیں جب ان کی بجائے ان کے جونئیر کو اگلے رینک میں ترقی دے دی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG