رسائی کے لنکس

logo-print

طیبہ تشدد کیس: جج اور اہلیہ کو تین سال قید کی سزا


سابق جج خرم علی خان کی اہلیہ ماہین ظفر عدالت سے باہر آ رہی ہیں۔ فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج خرم علی خان اور اہلیہ ماہین ظفر کی سزا میں دو،دو سال کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد اب دونوں مجرمان کو تین تین سال کی سزا کاٹنا ہوگی۔

اسلام آباد میں حاضر سروس جج اور ان کی اہلیہ کے کم عمر ملازمہ طیبہ پر تشدد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج خرم علی خان اور اہلیہ ماہین ظفر کی سزا میں دو، دو سال کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد اب دونوں مجرمان کو تین تین سال کی سزا کاٹنا ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں طیبہ تشدد کیس کے ملزمان سابق جج خرم علی خان اور اس کی اہلیہ ماہین ظفر کی سزا میں اضافے کی وفاق کی درخواست اور خرم علی خان کی سزا ختم کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے وفاق کی اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم سابق جج خرم علی خان اور اہلیہ ماہین ظفر کی سزا میں دو سال کا اضافہ کر دیا اور ملزمان کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے راجہ خرم کی سزا ختم کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی اور ملزم خرم علی خان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کی اہلیہ ماہین خرم اس وقت عمرہ کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں کیس کا تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے 46 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس پر جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے دستخط کیے۔

فیصلے کے مطابق خرم علی خان اور اہلیہ ماہین ظفر کی ایک، ایک سال قید کی سزا تین، تین سال قید میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ مجرمان کے خلاف شواہد چھپانے اور غلط معلومات دینے کی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مزید چھ ماہ قید کی سزا کا حکم بھی ہے اور مجرمان کو مجموعی طور پر ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم دونوں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور تین سال میں ختم ہوں گی۔

عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کی اہلیہ ماہین ظفر کو پانچ لاکھ روپے ازالے کی رقم بھی طیبہ کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم کمزور اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے تحفظ میں ناکام ہوا، فیصلہ میں پولیس کے کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ آئی نائن نے شکایت ملنے پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی،ایس ایچ او نے بچی کو ہسپتال لے جانے کے بجائے موبائل فون پر اس کا بیان قلمبند کیا۔ بچی کے بیان کے دوران وہاں پر موجود خاتون مداخلت کرتی رہی اور من پسند جوابات حاصل کرنے کے لیے مخصوص سوالات پوچھے گئے۔

تحریری فیصلہ کے مطابق بچی کا پولیس اسٹیشن اور ہسپتال میں دیا گیا بیان مجسٹریٹ کے سامنے بیان سے مختلف تھا۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر خبر چلنے کے بعد سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد کیس میں کارروائی کو آگے بڑھایا گیا اور پھر اس کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہوا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور مراعات حاصل کرنے والے طبقے میں فرق نے قانون کی حکمرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم فعال کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو بچی کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرانے کے معاملے پر انکوائری کی ہدایت کی ہے۔

طیبہ تشدد کیس دسمبر 2016 میں سامنے آیا جس میں ایک گھریلو ملازمہ طیبہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے پر ملک بھر میں اس معاملہ پر اجتجاج دیکھنے میں آیا اور عدالتوں کی طرف سے اس معاملہ پر بھرپور کارروائی کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG