رسائی کے لنکس

logo-print

کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی: عرفان صدیقی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل


اسلام آباد پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کے تحت اپنے کرایہ دار کے کوائف تھانے میں جمع نہ کرانے کے الزام پر عرفان صدیقی کو جمعے کو گرفتار کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی کو 14 روز کے ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کے تحت اپنے کرایہ دار کے کوائف تھانے میں جمع نہ کرانے کے الزام میں عرفان صدیقی کو جمعے کی رات اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں اُن کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔

ہفتے کو پولیس نے عرفان صدیقی اور ان کے کرایہ دار کو جوڈیشل مجسٹریٹ مہرین بلوچ کی عدالت میں پیش کیا اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی۔

اس موقع پر عرفان صدیقی کے وکلا نے جوڈیشل ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ ان کے مؤکل کو رہا کیا جائے۔

عدالت نے عرفان صدیقی کو بری کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔

عرفان صدیقی کے خلاف دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور عرفان صدیقی نے اس کی خلاف ورزی کی ہے جس پر اُن کے خلاف دفعہ 188 کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق جاوید اقبال نامی شخص مع خاندان عرفان صدیقی کے گھر میں بطور کرایہ دار رہائش پذیر ہیں جن کا اندراج مالک مکان نے متعلقہ تھانے میں نہیں کرایا۔ ایف آئی آر کے مطابق عرفان صدیقی کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر عرفان صدیقی اور ان کے کرایہ دار جاوید اقبال کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر عرفان صدیقی قلم پکڑ کر ہتھکڑی والے ہاتھ کو صحافیوں کو دکھاتے رہے۔

'عرفان صدیقی کو نواز شریف کا ساتھی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے'

ہفتے کو ضلع کچہری میں پیشی کے موقع پر عرفان صدیقی کے داماد نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک 78 سالہ بزرگ آدمی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وہ شوگر کے مریض ہیں۔ ہمیں ان کی صحت کی فکر ہے۔

‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی عرفان صدیقی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‎استادوں کو ہتھکڑیاں لگانے والی آمر حکومت نے 78 سالہ عرفان صدیقی کو گرفتار کر کے بھینس چوری کے مقدمے کی یاد تازہ کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کو نواز شریف کا دیرینہ ساتھی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔

مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ ‎عرفان صدیقی کو عمران خان کے حکم پر وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے گرفتار کرایا ہے۔ ان کے بقول ایک صاحبِ علم، استاد اور قلم سے جڑے شخص کی گرفتاری ثبوت ہے کہ عمران صاحب انتقام میں پاگل ہو چکے ہیں۔

مریم اورنگزیب کے بقول عرفان صدیقی پر جس گھر کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے وہ 20جولائی کو کرائے پر دیا گیا تھا اور یہ گھر ان کے بیٹے کے نام ہے جس کا ایگریمنٹ بھی عرفان صدیقی کے نام پر نہیں ہے۔

گرفتاری پر ہمیں بھی تحفظات ہیں: فردوس عاشق اعوان

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی مشیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ عرفان صدیقی کی گرفتاری پر ہمیں بھی تحفظات ہیں لیکن قانون سب کے لیے برابر ہے۔

نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے مشیرِ اطلاعات نے کہا کہ عرفان صدیقی نے عدالت میں قلم دکھایا لیکن ان کی گرفتاری کا قلم کی آزادی یا میڈیا پر پابندیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگا رہی۔

فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مکان کرائے پر دینے کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو آگاہ کرنا ہوتا ہے اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اسے دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی جی اسلام آباد سے ایف آئی آر منگوائی ہے اور اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG