رسائی کے لنکس

عہدہٴ صدارت سے سبک دوشی کے بعد بش ’’کنارہ کش رہے ہیں‘‘


’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں، سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ ’’میں نے یہ روش جان بوجھ کر اختیار کی ہے‘‘

آٹھ برس قبل جب صدر براک اوباما نے عہدہٴ صدارت سنبھالا اور ایوانِ نمائندگان کی عمارت کے سامنے منتظر ’میرین کور‘ کے ہیلی کاپٹر نے صدر جارج ڈبلیو بش اور اُن کی بیوی کے ساتھ پرواز بھری، بش نے مُڑ کر کبھی نہیں دیکھا۔ اور زیادہ تر وقت، وہ ذرائع ابلاغ سے کنارہ کش رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’میں نے یہ روش جان بوجھ کر اختیار کی ہے‘‘۔

اُنھوں نے یہ بات ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں واقع ’سدرن میتھڈسٹ یونیورسٹی‘ کی جارج ڈبلیو بش صدارتی لائبریری اور میوزئم میں ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔

اِس بات کی وضاحت کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’میں نہیں چاہتا کہ صدر اوباما کو کوئی بات ناگوار گزرے اور میں اس بات کا خواہاں ہوں کہ کوئی بات صدر ٹرمپ کے لیے نامناسب نہ ہو‘‘۔

تاہم، اِس سوچ کے باوجود، اُن کے حامی اور احباب اُن سے رابطہ کرتے رہتے ہیں، کہ وہ قومی اہمیت کے معاملوں پر لب کشائی کریں۔

بقول اُن کے، ’’دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اوباما صدر تھے، ٹیکساس کےاندرونی علاقے کے لوگ مجھے ٹیلی فون کیا کرتے تھے کہ آپ کو کچھ بولنا چاہیئے؛ اور اب جب کہ صدر ٹرمپ عہدے پر فائز ہیں، ساحلی علاقے کے لوگ فون کرکے کہتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ آپ کچھ بولیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG