رسائی کے لنکس

logo-print

اقوامِ متحدہ کے سابق سربراہ بطرس غالی کا انتقال


مصر سے تعلق رکھنے والے بطرس غالی اقوامِ متحدہ کے چھٹے سیکریٹری جنرل اور اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے افریقی اور عرب باشندے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بطرس غالی 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کا مکمل نام بطرس بطرس غالی تھا۔

انہیں گزشتہ ہفتے علالت کے باعث مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ منگل کو انتقال کرگئے۔

بطرس غالی کے انتقال کا اعلان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور عالمی ادارے میں وینزویلا کے سفیر رافیل ڈیریو رمیریز نے یمن کے بحران پر غور کے لیے منگل کو ہونےو الے کونسل کے اجلاس کے آغاز پر کیا۔

اس موقع پر 15 رکنی کونسل کے ارکان نے بطرس غالی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

مصر سے تعلق رکھنے والے بطرس غالی اقوامِ متحدہ کے چھٹے سیکریٹری جنرل اور اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے افریقی اور عرب باشندے تھے جنہوں نے جنوری 1992ء سے دسمبر 1996ء تک عالمی ادارے کی سربراہی کی تھی۔

وہ 1922ء میں مصر کے ایک قبطی عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے مصر کے علاوہ فرانس اور امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔

بطرس غالی ایک مشکل اور سخت گیر شخصیت کی حیثیت سے مشہور تھے جس کے باعث عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کی ناراضی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے ان کی رخصتی کا سبب بنی تھی۔

عالمی ادارے کا سیکریٹری بننے سے قبل بطرس غالی مصر کے صدور انور السادات اور حسنی مبارک کے دور میں وزیرِ خارجہ سمیت اہم مناصب پر فائز رہے تھے اور مصر اور اسرائیل کے درمیان ہونےو الے کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں ان کا اہم کردار تھا۔

اس معاہدے کے نتیجے میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے۔

بطور سیکریٹری جنرل بطرس غالی کو سابق یوگوسلاویہ میں جنگ اور روانڈا اور انگولا میں خانہ جنگی روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

تاہم ان کی چند بڑی کامیابیوں میں سے ایک صومالیہ میں قحط سالی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے تحت ایک بڑا امدادی آپریشن منظم کرنا تھا جس کے نتیجے میں خوراک کی کمی کا شکار لاکھوں افراد کی جان بچانے میں مدد ملی تھی۔

XS
SM
MD
LG