رسائی کے لنکس

logo-print

جدید سنگاپور کے بانی رہنما لی کیوان یئو انتقال کر گئے


اوباما کا کہنا تھا کہ لی "تاریخ کی ایک قدآور شخصیت تھے جنہیں آنے والی نسلیں بابائے جدید سنگاپور اور ایشیائی امور کے ایک عظیم ماہر کے طور پر یاد رکھیں گی۔"

سنگاپور کے سابق وزیراعظم لی کیوان یئو 91 برس کی عمر میں پیر کو علی الصبح انتقال کر گئے۔

وہ 1959ء سے 1990ء تک سنگاپور کے رہنما رہے۔

لی فروری کے اوائل سے شدید نمونیا میں مبتلا ہو کر سنگاپور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں بعد ازاں حالت بگڑنے پر انھیں مصنوعی نظام تنفس پر رکھا گیا تھا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے لی خاندان کے لیے اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اوباما نے لی کو ایک ایسا تصور رکھنے والے رہنما کے طور پر یاد کیا جنہوں نے "آج کی دنیا کا ایک خوشحال ترین ملک تعمیر کیا۔"

اوباما کا کہنا تھا کہ لی "تاریخ کی ایک قدآور شخصیت تھے جنہیں آنے والی نسلیں بابائے جدید سنگاپور اور ایشیائی امور کے ایک عظیم ماہر کے طور پر یاد رکھیں گی۔"

صدر کا کہنا تھا کہ وہ لی کے انتقال پر سنگاپور کی عوام کے دکھ میں شریک ہیں۔

لی کیوان یئو کا خاندان چار نسلوں پہلے 1860ء کی دہائی میں چین کے صوبے گوانگڈونگ سے نقل مکانی کرنے کے یہاں اس خطے میں پہنچا تھا۔ آنجہانی رہنما نے نوآبادیات کے خاتمے کے بعد اس ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

انھوں نے 1954ء میں پیپلز ایکشن پارٹی کے نام سے ایک جماعت تشکیل دے کر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ 1955ء میں لی قانون ساز اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما بنے۔ ان کی جماعت کے بائیں بازو کے دھڑے کے ساتھ پھوٹ پڑ جانے کے بعد کمیونزم کے حامی اس رہنما کو 1957ء میں گرفتار کر لیا گیا۔

1959ء میں ان کی جماعت نے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور لی کیوان یئو سنگاپور کے پہلے وزیراعظم بنے جس پر وہ 1990ء تک براجمان رہے۔

XS
SM
MD
LG