رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: سیاحوں کی بس پر بم حملہ، چار افراد ہلاک


گورنر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت سیاحوں کی بس اسرائیلی سرحد کے نزدیک موجود تھی اور سیاح سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہے تھے۔

مصر کے علاقے صحرائے سینا میں سیاحوں سے بھری بس میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکہ 'طابا' کے علاقے میں اسرائیل اور مصر کے درمیان موجود سرحدی گزرگاہ کے نزدیک ہوا جس کے فوراً بعد دونوں جانب کے حکام نے سرحدی گزرگاہ بند کردی ہے۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ بم بس یا اس کے راستے میں نصب کیا گیا تھا جس نے بس کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ ہلاک ہونے والے میں جنوبی کوریا کے تین سیاح اور بس کا مصری نژاد ڈرائیور شامل ہیں۔

مصر کے صوبے جنوبی سینا کے گورنر خالد فودا کا کہنا ہے کہ تاحال واقعے کی تفصیلات واضح نہیں اور دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

گورنر کے مطابق بس میں جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے سیاح سوار تھے جو سینا پہاڑ کے دامن میں موجود مشہور سیاحتی مقام سینٹ کیتھرائن سے واپس لوٹ رہے تھے۔

گورنر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت سیاحوں کی بس اسرائیلی سرحد کے نزدیک موجود تھی اور سیاح سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ مصر کا علاقہ جزیرہ نمائے سینا کئی تاریخی اور سیاحتی مقامات کے باعث غیر ملکی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ لیکن اسرائیلی سرحد سے متصل اس وسیع ریگستانی و پہاڑی علاقے میں جہادی گروہ اور ہتھیاروں کے اسمگلر بھی سرگرم رہے ہیں۔

تاریخی طور پر صحرائے سینا کا مشرقی علاقہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے جہاں کے وسیع رقبے پر پر حکومت کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔

لیکن بیشتر سیاحتی مقامات جنوبی سینا میں ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کی بس کو نشانہ بنانے کی واردات بھی یہیں پیش آئی جس نے مصری حکام کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے۔

رہے کہ مصر کے جمہوری طور پر منتخب پہلے اسلام پسند صدر محمد مرسی کے خلاف گزشتہ سال ہونے والے فوجی بغاوت کے بعد سے صحرائے سینا میں اسلام پسند جنگجووں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے جنہوں نے حالیہ مہینوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور تنصیبات پر کئی حملے کیے ہیں۔

ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمہ داری صحرائے سینا میں قائم ایک جہادی تنظیم 'انصار بیت المقدس' نے قبول کی ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے بھی اتوار کو ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG