رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید 2  اموات، تعداد 11 ہوگئی


coronavirus

امریکہ میں کرونا وائرس سے مزید دو افراد چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ ان میں سے دس اموات ریاست واشنگٹن میں ہوئی ہیں جبکہ بدھ کو شمالی کیرولائنا میں ایک شخص کا انتقال ہوا۔

کیلی فورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی میں وائرس کے چھ مریضوں کی تصدیق کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے جبکہ نیویارک میں 9 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کم از کم 130 ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیسٹ کا دائرہ بڑھایا جائے تو مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ خاص طور پر اس کا نشانہ چین ہے جہاں 119 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 20 جنوری کے بعد یہ چین میں سب سے کم تعداد ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ملک جنوبی کوریا میں کیسز کی تعداد 5200 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ایران میں مریضوں کی تعداد 3 ہزار اور اٹلی میں 2200 تک پہنچ گئی ہے۔

وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت سست وری کا شکار ہوئی ہے اور امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کا بھی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔

وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتیں ہرممکن کوششیں کررہی ہیں اور ہر جگہ اولین اقدام کے طور پر تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، ایران، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکول کالج بند کیے گئے ہیں۔

بعض مقامات پر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوئے ہیں اور انھوں نے سازوسامان سے گھر بھر لیے ہیں۔ امریکی شہر سیاٹل میں شہریوں نے اتنی تعداد میں سامان خرید لیا کہ گروسری اسٹورز خالی نظر آرہے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی خاص طور پر ٹشوپیپر اور ٹوائلٹ پیپر اتنی بڑی تعداد میں خریدے گئے ہیں کہ ڈاکٹروں کو شہریوں سے اپیل کرنا پڑی ہے کہ ایسا نہ کریں۔

ادھر سعودی عرب میں اگرچہ کرونا وائرس کے صرف ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے لیکن حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اس نے پہلے غیر ملکی زائرین کے عمرہ کرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن اب غیر ملکی کارکنوں اور اپنے شہریوں کے عمرہ کرنے اور مدینہ جانے پر پابندی لگادی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG