رسائی کے لنکس

ایک ہی روز میں 'غیرت کے نام پر' چار افراد قتل

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

رواں سال کے اوائل ہی سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں متعدد افراد نام نہاد غیرت پر قتل کیے جا چکے ہیں۔

خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع میں ایک ہی روز کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے دو مختلف واقعات میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے۔

قتل کا پہلا واقعہ ضلع کوہستان کے گاؤں شتل کوٹ میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے ایک کم سن لڑکے کو اس شبہ میں قتل کر دیا کہ اس لڑکے کے ملزم کی بہن سے تعلقات تھے۔

بعد ازاں یہ شخص اپنے گھر گیا اور اپنی 14 سالہ بہن کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کردیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔

دوسرا واقعہ مانسہرہ کے علاقے بفہ میں پیش آیا جہاں ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر ایک دوسری خاتون اور اس کے بیٹے کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے ماں بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ میبنہ طور پر ملزمہ کی بہو دو سال قبل مقتول لڑکے کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور یہی اس مہلک واقعے کی وجہ بنا۔

دونوں واقعات کی رپورٹس درج کر کے پولیس نے مزید تفتیش تو شروع کر دی ہے لیکن انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن زرعلی خان آفریدی غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے تدارک میں بظاہر ریاستی ادارے ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود رواں سال کے اوائل ہی سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں متعدد افراد نام نہاد غیرت پر قتل کیے جا چکے ہیں۔

چند سال قبل کوہستان کے ہی ایک دورافتادہ علاقے میں متعدد خواتین کو صرف اس بنا پر ان کے رشتے داروں نے قتل کر دیا تھا کہ وہ شادی ایک تقریب میں تالیاں بجا رہی تھیں اور ان کے دیگر رشتے دار لڑکے ان کی وڈیو بنا رہے تھے۔

سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث بعض افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

تاہم چند روز قبل ہی مبینہ طور پر ملزمان کے رشتے داروں نے مقتولین کے اقرا کے ایک گھر کو نذر آتش کر دیا تھا جس میں تین بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG