رسائی کے لنکس

کوئٹہ: حملے میں پولیس افسر سمیت چار اہلکار ہلاک


حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس افسر مبارک شاہ کی فائل فوٹو

فائرنگ سے ایس پی مبارک شاہ، اُن کا ڈرائیور اور دو محافظ شدید زخمی ہوگئے جو بعد ازاں دم توڑ گئے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک ہفتے کے دوران پولیس افسران پر ہونے والے دوسر ے حملے میں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر سمیت چار اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ایس پی مبارک شاہ جمعرات کی صبح اپنی گاڑی میں گھر سے دفتر جارہے تھے جب کلی دیبہ کے علاقے میں مو ٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ایک اسپیڈ بریکر پر آہستہ ہونے پر گاڑی میں سوار افراد پر گولیاں برسا دیں۔

فائرنگ سے ایس پی مبارک شاہ، اُن کا ڈرائیور اور تین محافظ شدید زخمی ہوگئے۔

تینوں محافظوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ مبارک شاہ کو قریبی سول اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی چل بسے۔

ایس پی کا ڈرائیور شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

حملے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے اور عینی شاہدین سے معلومات اور جائے واقعہ سے شواہد جمع کیے۔

حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرلی ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے پاک افغان سرحد کے قریب چمن بازار میں پولیس کے ایس ایس پی ساجد مومند پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔

مئی کے آخری ہفتے میں بھی بلوچستان پولیس کے ایک ڈی ایس پی اور ایک اے ایس پی بھی ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے کو ئٹہ شہر اور صوبے کے دیگر اضلاع میں امن وامان کو برقرار رکھنے کےلئے فرنٹیئر کور بلوچستان کو بھی پولیس کے اختیار ات دے رکھے ہیں اور اس مد میں ایف سی کو اربوں روپے بھی صوبائی حکومت ادا کر تی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG