رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشین مسافر طیارے کو لاپتا ہوئے چار سال بیت گئے


فائل فوٹو

ملائیشیا کے ایک مسافر طیارے کی گمشدگی کو آئندہ ہفتے چار سال مکمل ہو جائیں گے اور اس پر سوار مسافروں کے لواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔

بوئنگ 777 ساختہ طیارہ 'ایم ایچ 370' آٹھ مارچ 2014ء کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے جنوبی بحر ہند پر پرواز کے دوران اچانک لاپتا ہو گیا تھا اور اس پر عملے سمیت 239 افراد سوار تھے۔

یہ چوتھی برسی ایک ایسے وقت منائی جا رہی ہے جب طیارے کی تلاش کے لیے دوبارہ سے سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ملائیشیا کی حکومت نے طیارے کی تلاش کے لیے جنوری میں امریکہ میں قائم ایک ادارے سے معاہدہ کیا تھا۔

وزیر ٹرانسپورٹ لیوو تیونگ لائی کے مطابق ہیوسٹن میں قائم 'اوشین انفینیٹی' نامی ادارہ اس شرط پر طیارے کو تلاش کرے گا کہ اس بارے میں سراغ ملنے پر ہی اسے رقم ادا کی جائے گی بصورت دیگر کوئی عوضانہ نہیں دیا جائے گا۔

اگر کمپنی کو پانچ ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں طیارہ مل جاتا ہے تو اسے دو کروڑ ڈالر جب کہ 10 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں کامیابی کی صورت میں تین کروڑ ڈالر ملیں گے۔ اسی طرح 25 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں طیارہ ملنے پر پانچ کروڑ اور اگر اس سے بھی زیادہ بڑے علاقے میں تلاش کی سرگرمی کارگر ثابت ہوئی تو سات کروڑ ڈالر ادا کیے جائیں گے۔

طیارے کی گمشدگی کے بعد ملائیشیا کے ساتھ مل کر آسٹریلیا اور چین کے علاوہ متعدد ممالک تلاش کی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور اس دوران 16 کروڑ ڈالر خرچ کے ساتھ تقریباً 12 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو چھان مارا گیا تھا۔

گزشتہ سال جنوری میں تلاش کی یہ سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔ اب تک جہاز کا کچھ پتا نہیں چلا اور صرف بحر ہند سے تین ایسے ٹکڑے ملے ہیں جنہیں اس طیارے کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG