رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: بجلی کا چوتھا بڑا بریک ڈاوٴن، احتجاج اور جلاوٴ گھیراؤ


کے الیکٹرک کے اس دلچسپ جواز پر سندھ کے وزیراطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن برہم ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا اب کے الیکٹرک کو’ آئیڈیل موسم تخلیق‘ کرکے دینا ہوگا؟ کیوں کہ ’کے الیکٹرک‘ نے اس سے قبل ہونے والے بریک ڈاوٴن کا جواز اچانک ہونے والی بوندا باندی بتایا تھا

کراچی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے اگلی دوپہر تک ایک ہفتے کے دوران ہونے والے بجلی کے چوتھے بریک ڈاوٴن کے بعد شہر میں احتجاجی مظاہروں اور جلاوٴ گھیراؤ کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، جبکہ اس کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرائے جانے کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان اسمبلی اور سیاسی رہنماوٴں کی جانب سے کمپنی پر سخت تنقید بھی شروع ہوگئی ہے۔

چوتھا بریک ڈاوٴن پیر کی رات تقریباً دو بجے ہوا جس کے باعث شہر کا 80 فیصد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا، حتیٰ کہ شہریوں کو 25ویں روزے کی سحری بھی اندھیرے میں کرنا پڑی۔

بریک ڈاوٴن کے باعث جو علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں نارتھ کراچی، سہراب گوٹھ، انچولی، لیاقت آباد، ناظم آباد، گلبرگ، صدر، لائنز ایریا، گزری، ملیر، ماڈل کالونی، سعودآباد، بفرزون، گلشن معمار، گلشن جمال، اسکیم نمبر33 اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

سحری اور اس کے بعد جیسے ہیں فجر کی نماز ختم ہوئی شہر کے متعدد علاقوں میں کے الیکٹرک کے خلاف جلاوٴ گھیراؤ اور مظاہروں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ گولیمار سمیت کئی جگہوں پر نامعلوم افراد نے کمپنی کے خلاف ٹائر جلائے، پتھراوٴ کیا جس سے ٹریفک معطل ہوگیا اور پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا۔

بریک ڈاوٴن کی وجہ ’ہوا میں نمی کازیادہ تناسب‘
کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ’کے الیکٹرک ‘ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی میں تعطل ’ہوا میں نمی کا تناسب‘ 90 فیصد ہوجانے کی وجہ سے ہوا۔ ترجمان کے مطابق، نمی کے سبب پپری کے مقام پر220 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہوگئی، جس سے بن قاسم پاور پلانٹ بند ہوگیا اور شہر کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

کے الیکٹرک کو’ آئیڈیل موسم‘ کی ضرورت
کے الیکٹرک کے اس دلچسپ جواز پر سندھ کے وزیراطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن برہم ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا اب کے الیکٹرک کو’ آئیڈیل موسم تخلیق‘ کرکے دینا ہوگا؟ کیوں کہ ’کے الیکٹرک‘ نے اس سے قبل ہونے والے بریک ڈاوٴن کا جوازاچانک ہونے والی بوند باندی بتایا تھا۔

وزیراطلاعات نے خبردار کیا کہ’ کے الیکٹرک‘ اپنے معاملات درست کرلے ورنہ ان کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو اب اپنی ناکامی تسلیم کرلینی چاہیئے۔

اس سے قبل ہونے والے بریک ڈاوٴنز پر متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما الطاف حسین بھی کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔ انہوں نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایک دو روز میں سپلائی درست نہ ہوئی توکمپنی کا بوریا بستر گول کردیں گے۔

قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع
تیسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی میں بجلی کے بحران پر قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے۔تحریک پیپلز پارٹی کی اراکین اسمبلی نفیسہ شاہ، شازیہ مری، عذرا فضل پیچوہو اور اعجاز حسین جاکھرانی نے جمع کرائی۔

تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں بجلی کے بحران سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، وزارت پانی و بجلی کی سنگ دلی اور کے الیکٹرک کی ناکامی نے کراچی کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے چنانچہ وفاقی حکومت اور متعلقہ وزراء ایوان کو اس حوالے سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کریں۔

شہریوں کی نفسیات
ایک ہفتے کے دوران بجلی کے ایک کے بعد ایک ہونے والے چار بریک ڈاوٴنز نے کراچی کے شہریوں کو اس قدر خوف زدہ کردیا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے بھی بجلی جائے تو لوگ گھروں سے باہر آکر ایک دوسرے سے معلوم کرنے لگتے ہیں کہ پھر کہیں بریک ڈاوٴن تو نہیں ہوگیا؟ کہیں تار تو نہیں ٹوٹے؟ کہیں انہی کا تو پی ایم ٹی تو فیل نہیں ہوگیا ۔۔کیوں کہ یہاں ان تینوں باتوں کا مطلب بجلی کی طویل ترین معطلی سے لیا جانے لگا ہے۔

نارتھ کراچی کے رہائشی برہان احمد بتاتے ہیں ’تار ٹوٹیں یا پی ایم ٹی فیل ہو ۔۔کے الیکٹرک والے اسے ’علاقے کا ذاتی مسئلہ‘ خیال کرتے ہیں اس لئے گھنٹوں یہاں سے ملنے والی شکایات کا ازالہ کرنے نہیں پہنچتے۔ اب شاید ان کے لئے صرف بڑا بریک ڈاوٴن ہونے پر ہی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے کیوں کہ ایسی صورت میں ہی لوگ زیادہ احتجاج کرتے ہیں اور ایسی صورت میں ہی حکومت کے کارندے جاگتے اور الیکٹرک کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ورنہ احتجاج بھی انفرادی ہوتے ہیں اور ان پر توجہ بھی کوئی نہیں دیتا‘۔ برہان احمد نے ان خیالات کا اظہار وی او اے کے نمائندے سے پیر کی شام کیا۔

XS
SM
MD
LG