رسائی کے لنکس

مکران ڈویژن میں کرونا کی چوتھی لہر میں شدت، شہری علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن


فائل فوٹو

بلوچستان کے مکران ڈویژن میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر می شدت آگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع گوادر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کرونا وائرس کی شرح 28 فی صد رہی ہے۔

مکران میں کرونا میں اضافے کے پیشِ نظر 25 جولائی سے 15 دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اس دوران تمام دکانیں، ہوٹل اور ریستوران بند رہیں گے۔ تمام مچھلی مارکیٹس میں کاروبار کے علاوہ پارکس میں آمد، میدانوں میں کھیل اور مذہبی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری جانب وبا سے بچاؤ کے لیے مکران ڈویژن میں گوادر اور تربت میں اسپرے مہم کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ مہم کے دوران عوامی مقامات کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور بس اڈوں میں اسپرے کیا جا رہا ہے۔

ضلع گوادر کی تحصیل پسنی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی ساجد نور کے مطابق پسنی میں کرونا کے 100 ٹیسٹ میں سے 25 کے نتائج مثبت آئے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورتِ حال کس قدر خراب ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد نور نے کہا کہ غیر سرکاری اور آزاد ذرائع کے مطابق اب تک پسنی میں سات افراد کرونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں مگر سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو رہی۔ مرنے والوں کے لواحقین اس شبے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہلاک شدگان میں وائرس کی علامات موجود تھیں۔

ساجد نور کے بقول مکران ڈویژن میں لوگ کرونا وائرس سے خوفزدہ ضرور ہیں۔ البتہ انہیں زیادہ پریشانی لاک ڈاؤن اور ایران سے ہونے والی بجلی کی بندش سے ہے۔ اسی وجہ سے گوادر میں احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر گوادر میجر (ر) عبد الکبیر زرکون نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گوادر میں لاک ڈوان پر سختی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ جب کہ گوادر کی عوام بھی اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے بقول وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے حوالے ابھی تک مصدقہ اعداد و شمار وفاقی حکومت نے جاری نہیں کیے۔ البتہ گوادر میں مثبت کیسز کی تعداد 15 فی صد سے کم ہے جس کہ وجہ لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات ہیں۔

پاکستان میں ایک بار پھر کرونا کیسز بڑھنے لگے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:01 0:00

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ اب تک کرونا کی چوتھی لہر میں 15 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعض اموات رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اعداد و شمار کم نظر آ رہے ہیں۔

قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہ کرنے کا حکم

بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک سرکلر میں ہدایت کی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں حالیہ اضافے کے پیشِ نظر جہاں سماجی فاصلہ وقت کی ضرورت ہے۔ وہاں عدالتی افسران، ملازمین، وکلا اور عام عوام کی زندگیوں کو خطرات بھی لاحق ہیں۔

سرکلر میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے سینٹرل اور ڈسٹرکٹ جیل تربت، گوادر اور پنجگور کے سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ حکمِ ثانی تک وہ قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہ کریں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایک اجلاس منقعد ہوا جس میں مکران ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال، ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ، ویکسی نیشن، مثبت کیسز کی شرح میں اضافے، اسپتالوں میں موجود سہولیات اور ایس او پیز سے متعلق تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ کرونا وائرس کی چوتھی لہر بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

کیا محکمۂ صحت کے پاس وبا کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے وسائل موجود ہیں؟

بلوچستان کے محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے بھر میں چار لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

دوسری جانب صوبائی سیکریٹری برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر عزیر احمد جمالی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کرونا وائرس کی نئی قسم صرف مکران میں نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہے۔

عزیز جمالی کا کہنا تھا کہ مکران کے علاقوں گوادر، تربت اور پنجگور کے علاوہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی کرونا کی چوتھی لہر میں کیسز سامنے آئے جن کا تعلق کراچی سے ہے۔

سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کے مطابق مکران میں کرونا کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں میں تمام سہولیات موجود ہیں۔ تربت اور گوادر کے اسپتالوں میں 150 کے قریب بیڈز موجود ہیں۔

عزیز جمالی نے کہا کہ کوئٹہ اور مکران ڈویژن میں اس وقت 25 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں جب کہ گوادر، تربت اور پنجگور کے اسپتالوں میں 100 کے قریب آکسیجن سلنڈرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

مکران میں حکومت کے اقدامات ناکافی قرار

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کانفرنس کے رہنماؤں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مکران ڈویژن میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے دوران حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا۔

تنظیم کی رہنما ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ مکران میں کرونا وائرس کی نئی قسم نے تباہی پھیلانا شروع کر دی ہے جس سے گزشتہ ایک ہفتے ہی میں 15 افراد کی موت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار محض اخبارات سے سامنے آئے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس کے باعث صورتِ حال سنگین ہو چکی ہے۔ اموات بھی اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام میں کرونا کے حوالے سے شعور کی کمی سے لوگ اپنے پیاروں کی کرونا وائرس سے موت پر خاموش ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG