رسائی کے لنکس

logo-print

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کا روانڈا کا دورہ


1994 میں نسل کُشی کے بعد فرانسیسی صدر پہلی بار روانڈا میں

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے اعتراف کیا ہے کہ 1994 میں روانڈا میں نسل کُشی کو روکنےکے لیے کچھ نہ کرتے ہوئے فرانس اور باقی دنیا نے غلطی کی تھی۔لیکن انہوں نے معافی نہیں مانگی۔

مسٹر سارکوزی نے روانڈا کے دارالحکومت کِگالی میں جمعرات کے روز نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ فرانس اور دوسرے ملک ، ہلاکتوں کی ذمّے دار حکومت میں نسل کُشی کے پہلو کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہوئے ”اندھے“ ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اُن جرائم کے ذمّے دار لوگوں کو لازماً پکڑا جانا چاہئیے اور انصاف کے کٹیہرے تک پنچانا چاہئیے۔

فرانس کے صدر، روانڈا کے صدر پال کگامے کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔مسٹر کگامے نے کہا ہے کہ فرانس اور روانڈا کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ ایک ”نئى شراکت داری قائم کریں“۔

مسٹر سارکوزی کا یہ ایک روزہ دورہ 1994 میں روانڈا میں نسل کُشی اور پھر اسی ہولناک واقعے کے بارے میں ایک دوسرے پر الزامات کی وجہ سے برسوں تک کشیدگی کے بعد، اُس ملک کا پہلا دورہ ہے۔

روانڈا اس سے پہلے فرانس پر اُن انتہا پسند ہوٹو لوگوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کرچکا ہے، جنہوں نے لگ بھگ آٹھ لاکھ ٹُٹسی لوگوں اوراعتدال پسند ہوٹو لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ فرانس اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG