رسائی کے لنکس

پیرس پولیس پر حملہ کرنے والا الجیرین طالب تھا، حکام


پولیس کے اہل کار حملے کے مقام پر کھڑے ہیں۔ 6 جون 2017

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرارڈنے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ حملہ آور کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ سے پتا چلا کہ وہ  طالب علم تھا اور الجیریا سے پڑھنے کے لیے فرانس آیا ہوا تھا۔

بدھ کے روز فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جس شخص نے نوٹر ڈیم کیتھیڈرل میں پیرس کے پولیس افسروں پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا وہ ایک طالب علم تھا جو اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ پر کام کر رہا تھا اور اس پر انتہا پسندی کا شبہ نہیں تھا۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرارڈ کولومب کا کہنا ہے کہ نوٹر دیم کے ارد گرد خصوصي طور پر سیاحوں کے تحفظ کے لیے پولیس کی ایک سہ رکنی ٹیم گشت پر تھی۔

اسی دوران ہتھوڑے سے مسلح ایک شخص ان کے پیچھے آیا اور ایک پولیس اہل کار پر ہتھوڑے کے وار کرنا شروع کر دیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہل کار کے ساتھیوں نے فوری طور پر حملہ آور سے ہتھوڑا چھینا اور اپنے دفاع میں اس پر فائر کیا۔ پولیس اہل کار تشدد کسی کارروائی کا نشانہ نہیں بنا جو بصورت دیگر اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوتی ۔

منگل کے روز فرانسیسی وزیر داخلہ جیرارڈنے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ حملہ آور کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ سے پتا چلا کہ وہ طالب علم تھا اور الجیریا سے پڑھنے کے لیے فرانس آیا ہوا تھا۔ اور یہ کہ پولیس اہل کا ر پر حملے اس نے اپنے طور پر کیا تھا۔

حملے کے دوران اس نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ وہ یہ حملہ شام کے لیے کر رہا ہے۔ بعد میں اس کے اپارٹمنٹ کی تلاشى کے دوران پولیس کو ایک ویڈیو ملی جس میں اس شخص نے خود کو داعش کا وفادار قرار دہا تھا۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا ہے کہ انسداد ہشت گردی کے یونٹ نے اس کے خلاف تفتیش شروع کر دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG