رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس: کونکرڈ طیارے کے حادثے کے 10 سال بعد مقدمے کی سماعت



پیرس کے قریب ،ایک سپر سانک کونکرڈ طیارے کے اس حادثے کےتقریباً 10 سال بعد ، جس میں 113 لوگ ہلاک ہوئے تھے،امریکہ میں قائم کانٹی نیٹنل ایئر لائنز اور پانچ افراد کو انسانی جانوں کے قتل کے الزام میں مقدمے کاسامنا ہے۔ توقع ہے کہ اس مقدمے میں طیارے کے حادثے کے حوالے سے دو بہت مختلف وضاحتیں پیش کی جائیں گی۔

25 جولائی 2000ء کو ہونے والے کونکرڈ طیارے کے حادثے نے ہوا بازی کی دنیا کو ہلا کررکھ دیا تھا اوراس طیارے کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا جس پر یورپ کو ناز تھا۔

نیویارک جانے والے اس طیارے کے انجن سے پرواز کے صرف دو ہی منٹ کے بعد آگ کے شعلے اور دھواں نکلنے لگا اور وہ پیر س سے باہر چارلس ڈیگال ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل پر گرکر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام کے کے تمام 109 افراد اور ہوٹل کے چارکارکن ہلاک ہوگئے تھے۔ تین سال کے بعد کونکرڈ کو ہمیشہ کے لیے پروازوں سے ہٹا دیا گیا۔

اس وقت کانٹی نیٹنل ایئر لائنز اور پانچ افراد ، کونکرڈ کے کارکن اور فرانسیسی ہوا بازی کے شعبے کے ایک سابق عہدے دار پیرس سے باہر ایک عدالت میں انسانی جانوں کی ہلاکت کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوگیا تو کانٹی نینٹل پر پانچ لاکھ 20 ہزار ڈالر تک کا جرمانہ اور ان افراد کو پانچ سال تک کی قید اور نسبتاً کم جرمانوں کی سزا ہوسکتی ہے۔

فرانسیسی تفتیش کار اور محکمہ انصاف کے عہدے داروں کا کہناہے کہ جس وقت کونکرڈ طیارہ اڑنے کے لیے رن وے پر دوڑ رہاتھا تو وہ دھات کی پتلی سی پٹی اس کے راستے میں آگئی، یہ پٹی صرف چند منٹ پہلے اڑان بھرنے والے کانٹی نینٹل کمپنی کے ایک طیارے سے وہاں گری تھی۔ مفروضے کے مطابق اس دھاتی پٹی کی وجہ سے کونکرڈ کا ایک ٹائر پھٹ گیا اور اس کے کچھ ٹکڑے اڑ کر انجن اور ایندھن کے ٹینک میں چلے گئے جس سے آگ لگ گئی۔

کانٹی نینٹل کمپنی اس مفروضے سے اختلاف کرتی ہے۔ فرانسیسی ریڈیو پر گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے وکیل Olivier Metznerنے اس حادثے کی ایک مختلف توجیح پیش کی ۔

وکیل کا کہنا ہے کہ طیارے میں آگ دھات کی اس پٹی پر سے گذرنے سے آٹھ سیکنڈ پہلے لگی تھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اس کی تائید میں عینی شاہدین کےبیانات موجود ہیں۔

کانٹی نیٹنل کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کونکرڈ کے ڈیزائن میں سنگین نوعیت کے نقائص موجود تھے اور اس نے طیارے کی حفاطت اور دیکھ بھال کے ریکارڈ پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔اس مقدمے کی سماعت مئی کے آخر میں ختم ہوگی۔

XS
SM
MD
LG