رسائی کے لنکس

logo-print

دولت اسلامیہ کے خلاف ’عالمی ردعمل کی ضرورت ہے‘: فرانس


عراق کی صورت حال پر پیرس میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجو عالمی خطرہ ہیں جس کے خلاف عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

عراق کی صورت حال پر پیرس میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’اسلامک اسیٹیٹ‘ کے جنگجو عالمی خطرہ ہیں جس کے خلاف عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے عراقی صدر فواد معصوم کے ہمراہ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ’’فوری عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت‘‘ ہے۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اس کانفرنس میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ سمیت 30 ممالک کے عہدیدار شرکت کر رہے ہیں۔

’اسلامک اسٹیٹ‘ یعنی دولت اسلامیہ عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں کے علاوہ مشرقی شام کے وسیع علاقے پر بھی قابض ہے، اس تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف اتحاد تشکیل کے لیے پیرس میں یہ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری مشرق وسطی میں کئی دنوں تک علاقائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اس کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے۔

انھوں نے اتوار کو کہا تھا کہ ان ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو اس جنگ میں حصہ لینے پر تیار ہیں۔

جان کیری نے مزید کہا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے کئی عرب ممالک بھی فوجی امداد کی پیشکش کر رہے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو وہ فضائی کاروائیاں کر نے پر بھی تیار ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی صدر فواد معصوم کے حوالے سے بتایا ہے کہ عرب ملکوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ فضائی کارروائیوں میں حصہ لیں بلکہ اُن کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کانفرنس میں ہونے والے ’’فیصلوں میں شرکت کریں‘‘۔

فواد معصوم نے دولت اسلامیہ کے خلاف اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ ہر ایک کے مفاد میں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر یہ گروہ اپنے آپ کو عراق میں (مضبوط) کر لیتا ہے تو اس کے باعث عراق، خطے اور دنیا کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ دوسرے ممالک ہماری مدد کریں تاکہ بین الاقومی سطح پر اس گروہ کے خلاف کوششیں کی جائیں۔‘‘

ایران ان ممالک میں شامل نہیں جو اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ عراقی صدر معصوم فواد نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کو اس میں شرکت کرنے کی دعوت دینی چاہیئے تھی، کیونکہ عراق کے ساتھ اس کے سرحدیں مشترک ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایران اس بحران کے دوران انسانی ہمدردی کے تحت امداد بھی دیتا رہا ہے۔

دوسری طرف فرانسیسی عہدیداروں نے پیر کو کو کہا کہ ان کے طیارے نگرانی کے لیے عراق میں پروازیں شروع کرنے والے ہیں۔

XS
SM
MD
LG