رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا: جان کیری


فرانس نے شام میں داعش کے اہداف پر تازہ بمباری کی ہے جو کہ گزشتہ ہفتے پیرس میں ہوئے ہلاکت خیز حملوں کے بعد شدت پسند گروپ کے خلاف شروع کی گئی تازہ مہم کا حصہ ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ، فرانس اور ان کے دیگر اتحادی شدت پسندوں کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں اور آئندہ آنے والے والے ہفتوں میں شدت پسند گروپ داعش کو "مزید دباؤ کا سامنا" کرنا پڑے گا۔

منگل کو پیرس میں فرانس کے صدر فرانسواں اولاند سے ملاقات میں جان کیری نے ان مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جن کے ذریعے دونوں ملک داعش کے خلاف لڑائی کو زیادہ موثر بنا سکتے ہیں۔

ملاقات کے بعد جان کیری کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ سب ہی کو یہ ادراک ہے کہ جو کچھ لبنان میں ہوا، مصر میں، ترکی میں اور اب پیرس میں ہوا، ہمیں ان (دہشت گردوں) کے مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کوششیں بڑھانا ہوں گی جہاں سے وہ ان چیزوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اور لازمی طور پر لوگوں کی نقل و حرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدوں پر بھی مزید اقدام کرنا ہوں گے۔"

ادھر فرانس نے شام میں داعش کے اہداف پر تازہ بمباری کی ہے جو کہ گزشتہ ہفتے پیرس میں ہوئے ہلاکت خیز حملوں کے بعد شدت پسند گروپ کے خلاف شروع کی گئی تازہ مہم کا حصہ ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق منگل کو یہ کارروائی داعش کے مضبوط گڑھ رقہ میں کی گئی جس میں شدت پسندوں کے ایک کمانڈ سنٹر اور بھرتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

اس فضائی کارروائی میں دس فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔

گزشتہ جمعہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مختلف مقامات پر بم دھماکوں اور فائرنگ سے کم ازکم 129 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

پیرس حملوں کے بعد فرانس کی طرف سے اتوار کو رقہ میں پہلی بھرپور فضائی کارروائی کی گئی تھی۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے شام میں شدت پسندوں کو "سفاک حملوں" کا نشانہ بنانے کا عزم کیا تھا اور ان کے بقول پیرس حملوں کی منصوبہ بندی وہیں پر کی گئی۔

پیرس حملوں کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور پیر کو حکام نے ملک کے مختلف علاقوں سے 23 افراد کو حراست میں لیا۔ ان پر ان حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک ہونے کا شبہ ہے۔

مراکش نژاد بلیجیئم کے شہری عبدالحامد عبود کا ممکنہ طور پر ان حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG