رسائی کے لنکس

logo-print

عراق و شام کے ’انتہاپسند‘ گروہ کا نام، گھمبیر مسئلہ


جب اس گروہ نے یہ اعلان کیا کہ اسے صرف ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا ’ریاست اسلامیہ‘ کے نام سے پکارا جائے، تو معاملہ گمبھیر ہوگیا؛ کیوں کہ، اس گروہ کی تشکیل دی گئی خود ساختہ خلافت کی کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے

کراچی ... عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند گروہ کا نام شروع ہی سے ایک مسئلہ اور پیچیدگیوں کا سبب رہا ہے۔ ابتدا میں کئی لوگوں نے اسے ’ریاست اسلامیہ عراق و شام‘ کے نام سے پکارا، جسے انگریزی میں لکھیں تو یہ ’اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ شام‘ بنتا ہے۔ اس کا مخفف ’آئی ایس آئی ایس‘ ہوتا ہے۔ تاہم، اس نام پر بہت سا اختلافِ رائے سامنے آتا رہا ہے۔

کچھ ممالک جن میں امریکی حکومت بھی شامل ہے، انہوں نے اسے ’آئی ایس آئی ایل‘ یعنی ’اسلامک اسٹیٹ آف دی عراق اینڈ دی لیونٹ‘ کہہ کر پکارا۔ لیکن، جب اس گروہ نے یہ اعلان کیا کہ اسے صرف ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا ’ریاست اسلامیہ‘ کے نام سے پکارا جائے تو معاملہ اور بھی زیادہ گمبھیر ہوگیا کیوں کہ اس گروہ کی تشکیل دی گئی خود ساختہ خلافت کی کوئی باقاعدہ سرحد نہیں ہے۔

کچھ میڈیا گروپس جن میں ’دی پوسٹ‘ اور’ ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ اور ’نیو یارک ٹائمز‘ بھی شامل ہیں، انہوں نے اس نام کو اپنا لیا۔ تاہم، باقی افراد اور میڈیا گروپس ’آئی ایس آئی ایس‘ اور’آئی ایس آئی ایل‘ میں ہی الجھے رہے۔

اب فرانس نے اس معاملے کو اور بھی زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔ پیر کو فرانسیسی حکومت نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس گروپ کے لئے بالکل ہی الگ نام استعمال گیا اور وہ تھا ’داعش‘۔

فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ نام عرب ممالک سے ہی اخذ کیا ہے۔ وہاں سرکاری خط و کتابت میں بھی یہی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لورے فیبو نے گزشتہ ہفتے صحافیوں کو بتایا ’یہ دہشت گرد گروہ ہے۔ کوئی ریاست نہیں۔۔ میں اس کے لئے کبھی بھی ’ریاست اسلامیہ‘ کی اصطلاح استعمال کرنا پسند نہیں کروں گا، کیوں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان ایک ابہام بنا ہوا ہے۔ عرب اسے ’داعش‘ کے نام سے پکارتے ہیں اور میں بھی انہیں یہی نام دوں گا۔‘

یہ منطق یقیناً قابل فہم ہے اور فرانس کا یہ سوچنا بعید از قیاس نہیں ہے کہ کسی انتہا پسند گروہ کو ’ریاست اسلامیہ‘ کا نام دے دیا جائے۔

گزشتہ مہینے مصر کی اسلامی معاملات پر اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے ادارے ’دارالافتا‘ نے دنیا بھر کے میڈیا کو یہ اصطلاح استعمال کرنے سے منع کیا اور تجویز کیا کہ اسے ’عراق اور شام کی علیحدگی پسند القاعدہ‘ (تنظیم) کہا جائے۔ اس کا مخفف کیو ایس آئی ایس ہوتا ہے۔‘

’العربیہ نیوز‘ کے مطابق، اس حوالے سے مصر کے مفتی اعظم کے مشیر ابراہیم نجم کا کہنا تھا کہ ’دارالافتا‘ نے یہ وضاحت اس لئے بھی کرنا مناسب سمجھا کہ اس گروپ کی جانب سے کئے جانے والے پرتشدد اقدامات کو اسلام کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔‘

حال ہی میں، برطانیہ کے آئمہ کے ایک گروپ نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے اس انتہا پسند گروہ کو ’ریاست اسلامیہ‘ کے نام سے نہ پکارنے کی درخواست کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس گروہ کو ’ریاست غیر اسلامی‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا۔

برطانوی اخبار ’گارجین‘ کے مطابق، آئمہ کی جانب سے تحریر کیا گیا ایک خط بھی وزیر اعظم کے حوالے کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ گروہ نا تو اسلامی ہے، نہ ہی کسی اعتبار سے ’ریاست‘ ہے۔

اس فرانسیسی’منطق‘ کے باوجود، ’داعش‘ اب بھی پیچیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

ایک تاریخ دان اور بلاگر پیٹر وین اوسٹاین کا کہنا ہے کہ جسے’ریاست اسلامیہ‘ کہا جا رہا ہے وہ عربی زبان کے لفظ ’الدولت اسلامیہ فی العراق ولشام‘ سے نقل ہوا ہے۔ تاہم، ایک زبان سے دوسری زبان میں نقل ہونے والے اور بھی بہت سے اور مختلف الفاظ ہیں جو عربی میں مستعمل ہیں ۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اس کے لئے ’داعش‘، ’داش‘ اور ’دا۔اش‘ کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے، اے ایف پی کا کہنا ہے کہ مشر ق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں ’داعشی‘ کی اصطلاح حقارت آمیز معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کی تجویز ہے کہ چونکہ یہ اصطلاح ایک اور عربی لفظ ’داعس‘ سے ملتی جھلتی ہے، اس لئے بھی اسے ناپسند کیا جا رہا ہے، کیوں کہ ’داعس‘ کے معنی ’پیروں تلے کچلنا‘ ہیں۔

XS
SM
MD
LG