رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین بحران، ’پیش رفت ہو، تو روس پر تعزیرات اٹھالی جائیں‘


صدر ہولاں نے کہا ہے کہ مسٹر پیوٹن نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کو ضم کرنے کا کوئی ادارہ نہیں رکھتے۔ برعکس اِسے کے،اُنھوں نے مزید کہا کہ روسی لیڈر ’بااثر رہنے‘ کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت اختیار نہ کرے

فرانسسی صدر فرانسواں ہولاں نے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت میں پیش رفت کی صورت میں، روس کے خلاف پابندیاں اٹھائی جانی چاہئیں۔

مسٹر ہولاں نے پیر کے دِن ’فرانس انٹر‘ نامی ایک فرانسسی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ اس ماہ کے اواخر میں یوکرین بحران پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی مذاکرات میں شریک ہوں گے؛ اس امید کے ساتھ کہ حکومتِ یوکرین اور روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے درمیان تنازع کو ختم کرنے کے سلسلے میں، کوئی ’تازہ پیش رفت‘ ممکن ہوگی۔

جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل کے ترجمان، اسٹیفن سائبرٹ نے محتاط انداز میں یہ کہا کہ اُنھیں یقین نہیں کہ یہ اجلاس کب اور کیسے منعقد ہوگا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ، اس کا جواز تبھی بنتا ہے، اگر کوئی حقیقی پیش رفت حاصل ہو۔

یوکرین کے صدر، پیترو پوروشنکو نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 15 جنوری کو قزاقستان کے دارلحکومت، آستانہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چانسلر مرخیل اور صدر ہولاں سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے سفارت کار پیر کے روز برلن میں ملاقات کر رہے ہیں، جس کا مقصد مشرقی یوکرین میں تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں پر گفتگو کرنا ہے۔

صدر ہولاں نے کہا کہ مسٹر پیوٹن نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کو ضم کرنے کا کوئی ادارہ نہیں رکھتے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ برعکس اِس کے، روسی لیڈر ’بااثر رہنے‘ کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت اختیار نہ کرے۔

جزیزہ نما کرائیما کو ضم کرنے اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے پر، امریکہ اور یورپی اتحادی نے روس پر تعزیرات عائد کر رکھی ہیں۔

مشرقی یوکرین میں تنازع کے باعث، گذشتہ اپریل سے اب تک 4700 سے زائد ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔

پیر ہی کے روز، صدر پوروشنکو نے شمال مغربی یوکرین کے علاقے ستومر کے خطے میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بکتربند گاڑیاں اور دیگر فوجی سامان، جس میں چار لڑاکا جہاز بھی شامل ہیں، فوج کے حوالے کیے۔

صدارتی پریس آفس کے مطابق، مسٹر پوروشنکر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ 2015ء فتح اور یوکرین کے لیے امن کا سال ثابت ہوگا۔

XS
SM
MD
LG