رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس کا مزید فوجی دستے مالی بھیجنے کا اعلان


مغربی افریقی ممالک کی نمائندہ تنظیم کے ترجمان کے مطابق ان غیر ملکی فوجیوں کا پہلا دستہ منگل کو مالی پہنچے گا۔

فرانس نے مسلمان باغیوں کے خلاف لڑائی میں مالی کی افواج کی مدد کے لیے اپنے مزید فوجی دستے اس افریقی ملک روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں فرانس کے صدر فرانسس اولاں نے کہا ہے کہ فرانس کے اضافی فوجی دستے مغربی افریقی ممالک کے فوجی دستوں کے مالی پہنچنے تک امن و امان کے قیام میں مقامی افواج کی مدد کریں گے۔

فرانس کے صدر نے کہا کہ مالی میں مغربی افریقی ممالک کے فوجی دستوں کی تعیناتی میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فرانس کے فوجی طیاروں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی مالی کے شمالی علاقوں پر قابض مسلمان باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ ہفتے مالی میں تنظیم کے رکن ممالک کے تین ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

مغربی افریقی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقن اسٹیٹس' کے ترجمان کے مطابق ان غیر ملکی فوجیوں کا پہلا دستہ منگل کو مالی پہنچے گا۔

قبل ازیں ان فوجیوں کی مالی آمد ستمبر 2013ء میں متوقع تھی۔ تاہم مغربی افریقی ممالک کی تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مالی کے شمالی حصے پر قابض باغیوں کی جنوب کی جانب پیش قدمی اور بعض قصبوں پر قبضے کے بعد فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ غیر ملکی فوجیوں کی فوری تعیناتی کا مقصد مالی کو اپنی زمینی حدود کے تحفظ میں مدد دینا اور دارالحکومت بماکو کو باغیوں کی پیش قدمی سے بچانا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر جیرارڈ اروڈ نے کہا ہے کہ افریقی فوجی دستوں کی سربراہی کے لیے نائجیریا کے جن فوجی جنرل کا انتخاب کیا گیا ہے وہ بماکو پہنچ گئے ہیں۔

نائجیریا کے علاوہ مالی کے دیگر پڑوسی ممالک بشمول نائجیر، برکینا فوسو اور سینیگال نے بھی اپنے اپنے فوجی دستے مالی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

گزشتہ روز فرانس کے وزیرِ دفاع جین لوغیس نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ باغیوں نے مالی کی افواج کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد دارالحکومت بماکو سے 400 کلومیٹر شمال میں واقع 'دیابالے' نامی قصبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

مذکورہ قصبہ مالی کے ان وسطی اور شمالی علاقوں سے متصل ہے جہاں حملے سے ایک روز قبل فرانسیسی فوجی طیاروں نے باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔

مسلح مسلمان گروہ مالی کےپورے شمالی علاقے پر قابض ہیں اور وہ گزشتہ ہفتے سے جنوبی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں جس پر انہیں مالی کی فوج کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

مالی کے دو مسلم شدت پسند گروہوں 'موومنٹ فار ون نیس اینڈ جہاد ان ویسٹ افریقہ' اور 'انصارِ دین' نے مالی میں فوجی مداخلت کرنے پر فرانس کے خلاف جوابی حملوں کی دھمکی بھی دی ہے جس کے بعد فرانس بھر میں سیکیورٹی الرٹ کردی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG