رسائی کے لنکس

فرانس: یرغمالوں کی رہائی کے بعد خود کو پیش کرنے والا پولیس افسر ہلاک


پولیس اہل کار سپرمارکیٹ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں جہاں مسلح شخص نے کئی افراد کو یرغمال بنا یا۔ 23 مارچ 2018

ہفتےکےروز فرانس کےوزیر داخلہ نے کہا کہ جس پولیس افسر نےجنوب مغربی قصبے تریبس کی ایک سپر مارکیٹ میں ایک مسلح شخص کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے افراد کی رہائی کے بدلے میں خود کو رضاکارانہ طور پر حملہ آور کے حوالے کیا تھا، ہلاک ہو چکا ہے۔

ہفتے کے روز وزیر داخلہ جیرارڈ کولمبونےاپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ لیفٹننٹ کرنل ارنوڈ بیلڑامے انتقال کر گئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے اپنی جان دی۔ فرانس ان کی بہادری کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعےسے تعلق کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں ایک عورت بھی شامل ہے۔

عورت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حملہ آور کے قریب رہی ہے۔

مسلح شخص نے جمعے کے روز تشدد کے واقعے کے دوران تین لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

حملہ آور نے سب سے پہلے جنوبی فرانس کے قصبے کارکسون کے قریب ایک کار کے ڈرائیور کو زخمی اور اس میں سوار مسافر کو ہلاک کر کے کار چھینی۔ پھر اس کار کو چلاتے ہوئے اس نے جوگنگ کرتے ہوئے پولیس افسروں کے ایک گروپ پر گولی چلائی اوران میں سے ایک کو زخمی کر دیا۔

اس کے بعد وہ کارکسون کے قریب تریبس میں پیدل سپر ماکیٹ میں داخل ہوا جہاں اس نے فائرنگ شروع کر دی اوردو افراد کو ہلاک کر دیا۔

بعد ازاں اس نے سپر مارکیٹ میں کئی لوگوں کو یرغمال بنایا۔ اس موقع پر پولیس افسر بیلٹرامےنے حملہ آور کو یرغمالوں کی رہائی کے بدلے خود کو اس کے پاس یرغمال بننے کی پیش کش کی ۔جو اس نے قبول کر لی ۔ اوربیلٹرامے نے اپنے فون پر ایک لائن کھلی رکھی تاکہ اس کے ساتھی افسر وہ سب کچھ سن سکیں جو کچھ وہاں ہو رہا تھا۔

جب پولیس افسروں نے مزید گولیوں کی آوازیں سنیں تو انہوں نے مارکیٹ پر دھاوا بول کر مسلح شخص کو ہلاک کر دیا، لیکن اس دوران بیلٹرامے زخمی ہو چکا تھا۔

عسکریت پسند گروپ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کیا ہے جب کہ فرانسیسی صدر ایمو نوئیل مارکون نے یہ کہا کہ شواہد کے مطابق مسلح شخص کی کارروائیوں کو دہشت گردی خیال کیا جا رہاہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG