رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین 'دہشت گردوں' کا سیل ختم کر دیا گیا: فرانسیسی حکام


فرانسیسی حکام کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ گرفتار کی گئی تینوں خواتین نے پیرس میں گاردے لیوں ریلوے اسٹیشن اور مضافات میں بھی ایک اسٹیشن پر مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

فرانس میں حکام نے بتایا ہے کہ انھوں نے خواتین دہشت گردوں کے اس ایک سیل کو ختم کر دیا ہے جو شام سے شدت پسند گروپ داعش کی ہدایت پر بنایا گیا تھا اور فرانس میں ایک حملے میں مبینہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسواں مولاں نے بتایا کہ یہ دہشت گرد سیل میں تین خواتین جن کی عمریں 39، 23 اور 19 سال ہیں پر مشتمل تھا۔ پولیس نے انھیں جمعرات کو پیرس سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بوسی سینٹ انٹواں سے گرفتار کیا۔

بعض دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور ان میں بھی خواتین شامل ہیں۔

ان میں سے ایک خاتون اس گاڑی کی ڈرائیور بتائی جاتی ہے جو کہ گزشتہ ہفتے نوٹرے ڈیم کیتھڈرل کے پاس قریب کھڑی ملی اور اس میں گیس سے بھرے کنستر رکھے تھے۔

مولاں نے صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کو ایک بکسے سے ایک کمبل ملا جس پر ڈیزل کے نشانات تھے اور ایک سگریٹ بھی ملا اور اگر کسی ایک کنستر میں بھی آگ لگتی تو یہ گاڑی ایک بڑے دھماکے کا باعث بن سکتی تھی۔

ذرائع ابلاغ میں فرانسیسی حکام کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ گرفتار کی گئی تینوں خواتین نے پیرس میں گاردے لیوں ریلوے اسٹیشن اور مضافات میں بھی ایک اسٹیشن پر مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

مولاں کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کی شناخت سارہ ایچ سے ہوئی ہے جو کہ حال ہی میں پولیس اور ایک پادری پر ہونے والے حملوں میں ملوث دو فرانسیسی انتہا پسندوں سے بھی رابطے میں رہی۔

پراسیکیوٹر کے بقول سارہ ایچ اور ایک دوسری خاتون انس ایم نے گرفتاری کے وقت پولیس پر چاقو سے حملہ بھی کیا تھا۔ پولیس نے گولی مار کر انس ایم کو زخمی کر دیا۔ انھیں اس خاتون کے پرس سے ایک دستاویز بھی ملی جس میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے وفاداری کا اعلان کیا گیا تھا۔

ماہر بشریات دونیا بوزا سیکڑوں فرانسیسی انتہا پسند نوجوانوں اور ان کے والدین کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں بات پر حیرانی نہیں ہوئی کہ خواتین کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بوزا کہتی ہیں کہ داعش مرد و خواتین کو بنیاد پرستی کو مختلف وجوہات کی بنا پر اکساتا ہے لیکن اس کی بھرتی کا عمل ایک جیسا ہی ہے۔ ان کے بقول خواتین جنگجو بھی مردوں کی طرح کی لڑنا اور مرنا مارنا چاہتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG