رسائی کے لنکس

فرانس: صدر سے اختلافات کے بعد آرمی چیف مستعفی


فائل

صدر میخواں نے کہا تھا کہ اگر فوج کے سربراہ کو بجٹ کے معاملے پر ان سے کوئی اختلاف ہے تو انہیں اپنی رائے تبدیل کرنا ہوگی۔

فرانس کی مسلح افواج کے سربراہ نے صدر ایمانوئیل میخواں کے ساتھ اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

فرانسیسی فوج کے چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف جنرل پیئرڈی ویلرز اور صدر میخواں کے درمیان اختلافات گزشتہ ہفتے اس وقت پیدا ہوئے تھے جب جنرل ویلئرز نے حکومت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جنرل ویلرز نے بجٹ کا جائزہ لینے والی فرانسیسی پارلیمان کی ایک کمیٹی کے سامنےبیان دیتے ہوئے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کو فوجی بجٹ میں 85 کروڑ یورو کی کٹوتی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جنرل ویلرز کے اس بیان کے بعد حال ہی میں منتخب ہونے والے فرانس کے صدر میخواں نے یہ کہتے ہوئے کہ "وہ باس ہیں" فوج کے سربراہ کو بجٹ تنازع کو عوام میں لانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے 39 سالہ میخواں نے – جو فرانس کی تاریخ کے نوعمر ترین صدر ہیں - مزید کہا تھا کہ اگر فوج کے سربراہ کو بجٹ کے معاملے پر ان سے کوئی اختلاف ہے تو انہیں اپنی رائے تبدیل کرنا ہوگی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس تنازع کے بعد جنرل ویلئرز نے بدھ کو اپنا استعفیٰ حکومت کو بھیج دیا ہے۔

استعفے میں فرانسیسی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ فرانس کی فوج کے اس ماڈل کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں جو ان کے خیال میں ملک اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

اپنے استعفے میں 60 سالہ جنرل ویلئرز نے مزید کہا ہے کہ اپنے پورے فوجی کیریئر کے دوران انہوں نے سیاست دانوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا ہے اور انہوں نے یہ ذمہ داری آخری وقت تک نبھائی ہے۔

دو ماہ قبل برسرِ اقتدار آنے والےصدر میخواں کی حکومت نے بجٹ میں ساڑھے چار ارب یورو کی کٹوتیوں کا وعدہ کیا ہے تاکہ فرانس کا مالی خسارہ کم کیا جاسکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ میں کٹوتیاں بھی اسی منصوبے کے تحت کی جارہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG