رسائی کے لنکس

logo-print

حملوں کے بعد فرانس میں چھاپے اور گرفتاریاں


پیر کو فرانسیسی وزیراعظم مینوئل والز نے کہا کہ پولیس نے رات کو ملک بھر میں 150 سے زائد چھاپے مارے جن میں کم از کم 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے

پیرس میں مہلک حملوں میں ملوث افراد کی تلاش میں فرانسیسی پولیس نے ملک بھر میں مشتبہ شدت پسندوں کے گھروں پر 150 چھاپے مارے جبکہ ملک کے وزیراعظم مینوئل والز نے متنبہ کیا ہے کہ ممکنہ طور پر مزید حملے ہو سکتے ہیں۔

والز نے کہا کہ اس موسم گرما سے فرانسیسی انٹیلی جنس اداروں نے پانچ حملوں کو ناکام بنایا۔

والز نے ’آر ٹی ایل‘ ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ مزید حملوں کی تیاری کی جارہی ہے، ناصرف فرانس کے خلاف بلکہ دیگر یورپی ممالک کے خلاف بھی۔‘‘

پیر کو فرانسیسی وزیراعظم نے کہا کہ پولیس نے رات کو ملک بھر میں 150 سے زائد چھاپے مارے جن میں کم از کم 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایک راکٹ لانچر، ایک کلاشنکوف اور بلٹ پروف جیکٹوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

جمعے کو پیرس میں ایک فٹ بال سٹیڈیم، شراب خانوں اور ایک میوزک ہال پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اتوار کو مرنے والوں کی تعداد 132 بتائی گئی تھی مگر پیر کو آنے والی خبروں میں کہا گیا کہ اس میں گنتی کی غلطی تھی۔

والز نے کہا کہ ’’ہم ان لوگوں سے تفتیش کر نے کے لیے جو کسی شدت پسند جہادی تنظیم کا حصہ ہیں یا جو ملک کے خلاف نفرت کا پرچار کرتے ہیں ہنگامی صورتحال کے قانون کو استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

جمعے کو مسلح افراد اور خودکش بمباروں کی تین مربوط ٹیموں نے پیرس میں کئی حملے کیے جس کے بارے میں فرانس کے صدر فرانسوا اوند نے کہا کہ یہ داعش کی طرف سے ’’اقدام جنگ‘‘ ہے۔

فرانسیسی پولیس نے ایک مشتبہ شخص کی تصویر جاری کی ہے جو جمعے کو ہونے والے حملوں کے بعد مفرور ہے۔

مشتبہ شخص کی شناخت 26 سالہ صالح عبدالسلام کے طور پر کی گئی ہے جس کی پیدائش بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہوئی۔ آٹھ مشتبہ حملہ آوروں کے بارے میں معلومات کے لیے ایک اشتہار میں کہا گیا کہ یہ شخص خطرناک ہے اور جس کسی کے پاس بھی کوئی معلومات ہوں تو وہ حکام سے رابطہ کرے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کے حملوں کے بعد فرانسیسی حکام نے عبدالسلام کو دو دیگر افراد کے ساتھ بیلجیئم کے قریب ایک شاہراہ پر روکا مگر ان سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔

عبدالسلام ان تین فرانسیسی بھائیوں میں سے ایک ہے جن کا تعلق پیرس میں کیے گئے مربوط حملوں سے بتایا جاتا ہے۔

دوسرے بھائی صالح ابراہم نے بٹاکلان میوزک ہال کے میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ بیلجیئم کے حکام نے تیسرے بھائی کو حراست میں لے لیا ہے۔

فرانس اور بیلجیئم کی پولیس نے متعدد گرفتاریاں کی ہیں اور مشتبہ حملہ آوروں کے اہل خانہ اور ان سے متعلق دیگر افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

پیرس حملوں میں ملوث متعدد خود کش حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے جن میں بیلجیئم کا بلال ہفدی بھی شامل ہے جو اسٹیڈیم پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک تھا۔

اتوار کو فرانسیسی پولیس نے عمر اسمٰعیل مصطفائی کے قریبی رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کی۔ عمر پہلا مشتبہ دہشت گرد تھا جس کی شناخت کی گئی تھی۔

عمر ان سات خود کش حملہ آوروں میں شامل تھا جن میں سے چھ نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ ساتویں کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

عمر کے والد، بھائی اور بھابی ان چھ افراد میں شامل ہیں جنہیں حکام نے حراست میں لیا ہے۔

اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے صرف آٹھ افراد نے کیے مگر خیال ہے کہ ان کے پیچھے 20 افراد ملوث تھے جن میں سے 10 کے بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں۔

XS
SM
MD
LG