رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس: جریدے پر حملے کے ملزمان پولیس کارروائی میں ہلاک


حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی سہ پہر دونوں مقامات پر بیک وقت کی جانے والی پولیس کارروائیوں میں تینوں ملزمان اور تین یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ بعض دیگر یرغمالیوں کو رہا کرالیا گیا ہے۔

فرانس میں پولیس نے رواں ہفتے ایک جریدے کے دفتر پر حملے میں ملوث دو ملزمان سمیت تین مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جریدے پر حملے میں ملوث دونوں ملزمان اور ان کے ایک تیسرے مبینہ ساتھی نے دو مختلف مقامات پر پناہ لے رکھی تھی جہاں انہوں نے انسانی ڈھال کے طور پر بعض افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی سہ پہر دونوں مقامات پر بیک وقت کی جانے والی پولیس کارروائیوں میں تینوں ملزمان اور تین یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ بعض دیگر یرغمالیوں کو رہا کرالیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق بدھ کو ہفت روزہ جریدے 'چارلی ایبڈو' کے پیرس میں واقع دفتر میں فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کرنے کے واقعے کے مرکزی ملزم دونو ں بھائیوں - شریف کوشی اور سعید کوشی – نے دارالحکومت کے 'چارلس ڈی گال ایئر پورٹ' کے نزدیک ایک صنعتی علاقے کے گودام میں پناہ لے رکھی تھی جہاں انہوں نے مبینہ طور پر ایک شخص کو یرغمال بھی بنا یا ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے جمعے کی صبح سے ہی 'دامارٹین این گوئل' نامی صنعتی علاقے کا گھیراؤ کر رکھا تھا اور دونوں بھائیوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات جاری تھے۔

حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں بھائیوں نے پولیس کے مذاکرات کاروں پر واضح کردیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے بجائے "شہادت کی موت قبول کرنا چاہتے ہیں" جس کے بعد پولیس کو کارروائی کی اجازت دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سے پیش قدمی کے بعد دونوں بھائی گودام سے باہر نکل آئے اور انہوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جن کی جوابی فائرنگ سے دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

جمعے کی صبح پیرس کے علاقے پورٹ ڈی ونسنز کی ایک سپر مارکیٹ میں بھی ایک مسلح شخص نے داخل ہو کر وہاں موجود خریداروں اور عملے کے افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور کے ساتھ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سپر مارکیٹ میں کارروائی کی گئی جس میں حملہ آور اور کم از کم تین یرغمالی ہلاک ہوگئے۔

حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ تینوں یرغمالی کیسے اور کس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ کارروائی سے قبل پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مسلح شخص نے کم از کم پانچ افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت 32 سالہ امیدی کلابلے کے نام سے ہوئی ہے اور اسے مبینہ طور پر ایک خاتون ساتھی کی مدد بھی حاصل تھی جسے تلاش کیا جارہا ہے۔

پولیس حکام نے حملہ آور کی مبینہ ساتھی کو حیات بومیدین کے نام سے شناخت کیا ہے جو، حکام کے بقول، کارروائی کے دوران سپر مارکیٹ سے خوف زدہ ہو کر باہر آنے والے عام افراد کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب رہی۔

پیرس پولیس کےایک ترجمان نے کہا ہے کہ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ کلابلے جمعرات کو پیرس کے جنوبی علاقے میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں بھی ملوث تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کلابلے کوشی برادران سے رابطے میں تھا جنہیں پولیس نے 'چارلی ہیبڈو' کے دفتر پر حملے کی ویڈیو فوٹیج سے شناخت کیا تھا۔

پولیس حکام نے جریدے کے دفتر پر حملہ کرنے والے تیسرے شخص کو 18 سالہ حامد مراد کے نام سے شناخت کیا تھا جس نے ذرائع ابلاغ پر اپنا نام آنے کےبعد خود گرفتاری پیش کردی تھی۔

تاحال پولیس حکام نے حامد مراد سے ہونے والی تفتیش سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ آیا اس کا کوشی برادران سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور وزیرِ داخلہ برنارڈ کازے نووا نے دونوں مقامات پر کارروائیاں کرکے حملہ آوروں کو ہلاک کرنے پر پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

بدھ کو 'چارلی ہیبڈو' کے دفتر پر حملے کے بعد سے حملے میں ملوث دونوں بھائیوں کی تلاش کے لیے پیرس اور اس کے گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری تھا جس میں 88 ہزار سے زائد پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار شریک تھے۔

دریں اثنا حملے کا نشانہ بننے والے جریدے کی انتظامیہ نے بدھ سے 'چارلی ہیبڈو' کی اشاعت کا دوبارہ آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کے حملے میں جریدے کے شریک بانی اور مدیرِ اعلیٰ سمیت عملے کے 10 افراد مارے گئے تھے۔

'چارلی ہیبڈو' سیاسی اور مذہبی شخصیات کے مزاحیہ خاکے بنا کر انہیں تنقید کا نشانہ بنانے کی شہرت رکھتا ہے اور چند برس قبل جریدے نے پیغمبر اسلام کے بھی توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے۔

ان خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے علاوہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا جب کہ بعض شدت پسند حلقوں کی طرف سے جریدے کی انتظامیہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔

تاہم جریدے کے مدیروں نے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے "آزادیٔ اظہار کا اپنا حق" قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG