رسائی کے لنکس

ووٹروں نے بطور فرانس کے اگلے صدر امانیئول میکخواں کو منتخب کیا ہے، جب کہ یورپی یونین اور امیگریشن کی پالیسیوں کی مخالف امیدوار ماری لوپین کو مسترد کر دیا ہے۔

پولنگ کے بعد جاری ہونے والے ابتدائی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ میکخواں کو 64.3 فی صد، جب کہ ماری لوپین کو 35.7 فی صد ووٹ پڑے۔

اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات کو فرانس کے متعدد لوگوں نے ملک کی جدید تاریخ کے تلخ ترین اور متنازع الیکشن قرار دیا ہے۔

میکخواں نے فرانس کے خبر رساں ادارے، 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ''فرانس میں ایک نئے پُرامید اور پُراعتماد باب کی ابتدا ہوگئی ہے''۔

ابتدائی نتائج جاری ہونے کے چند ہی منٹ بعد، مشرقی پیرس میں واقع ایک ریستوران میں لوپین نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ اُنھوں نے میکخواں کو ٹیلی فون کرکے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔

بقول لوپین ''فرانس نے نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ اُنھوں نے تسلسل کے حق میں ووٹ دیا۔ میں نے میکخواں کو ٹیلی فون کیا ہے، چونکہ مجھے فرانس کے مفادات عزیز ہیں، اور میں نے اُن کے لیے اپنی بہترین خواہشات کا اظہار کیا''۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرانس کے صدارتی انتخاب کے نتائج کے بعد ٹویٹر پیغام کے ذریعے، میکخواں کو مبارکباد دی۔

اُنھوں نے کہا کہ میکخواں نے ''بڑی فتح'' حاصل کی ہے، اور کہا کہ وہ اُن کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں۔

انتالیس برس کے ایک سابق بینکر اور معیشت کے وزیر، میکخواں فرانس کے کم عمر ترین صدر بن گئے ہیں۔

وہ یورپی یونین کے حامی اور اصلاحات کے خواہاں ہیں، جو گروپ میں مزید جمہوریت لانے کے حق میں ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ موجودہ طریقہ کار کے تحت کام جاری رکھنے کا مطلب یورپی یونین سے علیحدگی کی جانب قدم بڑھانے کے مترادف ہوگا، جیسا کی برطانیہ نے کیا ہے۔

وہ اصلاحات اور نوجوان طبقے کے حامی ہیں، جنھیں متوسط شہری ووٹروں نے کھل کر ووٹ دیے ہیں۔ وہ عالمگیریت اور معاشی خوش حالی کے حامی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG