رسائی کے لنکس

logo-print

’ایئرالجیریا‘ طیارہ حادثہ، کوئی زندہ نہیں بچا: فرانس


فرانسسی وزارت دفاع کے ایک اہل کار نے بتایا ہے کہ جمعے کی صبح 100 فرانسسی فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ جائے حادثہ پہنچا، اور ابتدائی تفتیش کا آغاز کیا

فرانس کے صدر، فرانسواں ہولاں نے کہا ہے کہ’ایئر الجیریا‘ کےمسافر طیارے کے ملبے کی تلاشی سے پتا چلا ہے کہ کوئی مسافر زندہ نہیں بچا۔ جمعرات کے دِن مالی میں گر کر تباہ ہونے والے اِس جہاز میں کُل 118 افراد سوار تھے۔

فرانسسی وزارت دفاع کے ایک اہل کار نے بتایا ہے کہ جمعے کی صبح 100 فرانسسی فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ جہاز کےحادثے کے مقام پر پہنچا، اور ابتدائی تفتیش کا آغاز کیا۔

یہ فوجی اُس دستے کا حصہ ہیں جو پچھلے سال مالی میں تعینات کیا گیا تھا، تاکہ القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف نبردآزما ہونے میں مدد دی جا سکے۔

صدر ہولاں نے کہا کہ طیارے کا ’بلیک باکس‘ برآمد کر لیا گیا ہے اور تفتیش کا کام جاری ہے۔ جہاز گِرنے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں، لیکن فرانسسی عہدے داروں کو شبہ ہے کہ خراب موسم ہی اِس کی وجہ تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو حادثہ پیش آنے کے وقت علاقہ شدید دھول کے طوفان کی زد میں تھا۔

دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا،کیونکہ اِس علاقے میں شدت پسند کارروائیاں عام ہیں۔

تاہم، عہدے داروں نے کہا ہے کہ امکان یہ ہے کہ طیارہ فضا میں تباہ نہیں ہوا، کیونکہ ملبہ نسبتاً چھوٹے سے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ مسافر طیارہ برکینا فاسوسے الجیریا سفر پر تھا جب اُسےیہ حادثہ پیش آیا۔

اس سے قبل موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھات کہ، الجزائر کے تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور حکام نے جمعہ کو بتایا کہ طیارہ کسی قسم کے حملے کا شکار نہیں ہوا، بلکہ یہ زمین پر گر کر تباہ ہوا۔

جمعرات کو یہ طیارہ برکینافاسو سے الجزائر جاتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ جہاز پر 116 افراد سوار تھے جن میں 51 کا تعلق فرانس سے تھا۔

فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازینیوو نے "آرٹی ایل" ریڈیو کو بتایا کہ جہاز زمین پر گرتے ہی تباہ ہو گیا۔

" اس وقت کسی بھی امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا لیکن ہمارا خیال ہے کہ طیارے کی تباہی کی وجہ خراب موسم سے جڑی ہو سکتی ہے۔"

وزیر ٹرانسپورٹ فریڈرک کوولیئر کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر جہاز کے تیل کی بو اور ملبے کا نسبتاً کم علاقے میں بکھرے ہونا اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ حادثہ موسم کی وجہ سے پیش آیا۔

قبل ازیں جمعہ ہی کو مالی میں گر کر تباہ ہونے والے الجزائر کے مسافر طیارے کے ملبے کو محفوظ کرنے کے لیے فرانس نے اپنے فوجی بھیجے تھے۔

برکینا فاسو کی فوج کے جنرل گلبرٹ ڈینڈیر نے تصدیق کی ہے کہ طیارے کا ملبہ ان کے ملک کی سرحد سے 30 کلومیٹر دور مالی کے علاقے گوسی میں پایا گیا۔

"اس مقام پر امدادی مشن کو طیارے کی باقیات ملیں اور بدقسمتی سے اس ملبے میں لاشیں بھی ہیں۔"

جنرل گلبرٹ کا کہنا تھا کہ "ہم صحیح طرح سے جائزہ نہیں لے سکے کیونکہ رات کا اندھیرا چھانا شروع ہو گیا تھا، ہمیں امدادی کارکنوں نے بتایا کہ انھوں نے جل کر خاکستر ہونے والے طیارے کا ڈھانچہ اور اس کا ملبہ دیکھا۔ بدقسمتی سے ہماری ٹیم کو وہاں کوئی زندہ شخص نہیں ملا، مسافروں میں سے کوئی بھی نہیں۔"

حکام کا کہنا ہے کہ مسافر طیارے کو برکینافاسو کے دارالحکومت اواگادوگو سے اڑان بھرنے کے بعد ایک شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG