رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات میں کامیابی سے 'امریکی خواب' پانے والے تارکینِ وطن


امریکہ میں صدارتی انتخابات کے علاوہ ایوانِ نمائندگان، سینیٹ کی 35 نشستوں جب کہ مقامی حکومتوں کے بھی انتخابات ہوئے جن میں مختلف کمیونٹیز اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

ان انتخابات میں جہاں بہت سے نئے چہرے کامیاب ہوئے وہیں کچھ ایسے افریقی امریکی اُمیدواروں نے بھی میدان مارا جنہوں نے اپنے ممالک میں مشکل حالات کے باعث امریکہ میں پناہ لی تھی۔

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے اوبالا اوبالا بھی ایسے ہی اُمیدواروں میں شامل ہیں جو ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن سے سٹی کونسل کے رُکن منتخب ہونے والے پہلے غیر سفید فام سیاست دان ہیں۔

اوبالا نے اپنے ملک میں تشدد اور قتل و غارت دیکھی جب کہ ان واقعات میں اُن کے عزیز سمیت سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا جس کے بعد وہ دو ہفتوں کا دشوار گزار پہاڑی سفر طے کر کے کینیا میں مہاجرین کے ایک کیمپ پہنچے اور وہاں 10 سال گزارے۔

اوبالا کے بقول مہاجر کیمپ میں اُنہیں پیٹ بھر کر کھانا بہت کم نصیب ہوتا تھا۔

اوبالا کے علاوہ حالیہ انتخابات میں لگ بھگ امریکی سیاست دان مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح پر مختلف نشستوں میں کامیاب ہوئے جو افریقی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ زندگی کی تمام تر مشکلات کے باوجود پراعتماد تھے کہ وہ کسی نہ کسی روز منزل مقصود تک ضرور پہنچ جائیں گے۔

اوبالا کہتے ہیں کہ "مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اپنے آپ کو ایسا امریکی شہری سمجھتا ہوں کہ جو اپنی کمیونٹی کی خدمت کر سکتا ہے۔ میرے لیے کامیابی کا حسین امریکی خواب یہ تھا کہ اگر میں محنت کروں تو منزل پا لوں گا۔ میں امریکی خواب کو ایسے ہی دیکھتا ہوں۔"

نکیتا رکس
نکیتا رکس

اوبالا کی طرح چار اور افریقی نژاد امریکی بھی اس سال تین نومبر کو ہونے والے الیکشن میں شہر، ریاست اور وفاق کی سطح پر کامیاب ہوئے ہیں۔

اوبالا کی طرح نائیجیرین نژاد ایستھر اگباجی ریاست منی سوٹا قانون ساز ادارے میں رُکن منتخب ہوئے ہیں۔

اسی طرح اوئی اوولیوا پہلے نائیجیرین نژاد امریکی ہیں جو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں شیڈو امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

لائیبرین امریکن نکیتا رکس ریاست کولوراڈو کے ایوانِ نمائندگان میں منتخب ہوئی ہیں۔ نکیتا لائبیریا کی خانہ جنگی سے بچ نکلنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ بچپن میں کولوراڈو آ گئی تھیں۔

انہوں نے اپنے انتخاب کے بعد وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنی کامیابی پر فخر کرتی ہیں اور اپنی کمیونٹی کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں۔

عمر فاتح (فائل فوٹو)
عمر فاتح (فائل فوٹو)

نکیتا کہتی ہیں کہ "یہاں لوگ کھلے ذہن سے جاننا چاہیتے ہیں کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔ اور یہی بات امریکہ کو ایک عظیم ملک بناتی ہے۔ اور یہ وہ مثال ہے جو ہم ایک جمہوری ملک میں قائم کرتے ہیں۔"

اسی طرح صومالیہ سے تعلق رکھنے والے عمر فاتح ریاست منی سوٹا کی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

اپنی کامیابی کے بارے میں عمر فاتح نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ نتائج اُن کی ریاست میں لوگوں کی بدلتی ہوئی آرا کا عکس ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ "ہم ہر تارکِ وطن سمیت نئے آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم ہر رنگ اور نسل کے افراد اور اُن کی اقدار کا احترام کرتے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG