رسائی کے لنکس

logo-print

سونامی کے دس سال بعد جاپان کا فوکوشیما جوہری پلانٹ کتنا محفوظ ہے؟


فوکوشیما کا جوہری پلانٹ 2011 کے سونامی سے متاثر ہوا تھا

جاپان میں جمعرات کو ایک بڑے زلزلے اور سونامی کے دس سال گزرنے کی یاد منائی گئی۔ اس زلزلے اور سونامی میں کئی گاؤں اور قصبے اجڑ گئے تھے اور دنیا کا بدترین جوہری سانحہ پیش آیا تھا، جس میں اٹھارہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

ٹوکیو میں جمعرات کے روز جاپان کے وزیر اعظم یوشی ہیڈے سوگا اور جاپان کے شہنشاہ نارو ہیٹو نے اس سانحے کی یادگاری تقریب میں سوگواران کے ساتھ چند لمحے کی خاموشی اختیار کی۔ ریکٹر سکیل پر 9.0 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں سونامی آیا تھا جس نے جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں تباہی مچادی تھی اور فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔

جاپان میں فوکو شیما جوہری حادثے میں ہلاک شدگان کی یاد میں ہونے والی تقریبات
جاپان میں فوکو شیما جوہری حادثے میں ہلاک شدگان کی یاد میں ہونے والی تقریبات

سونامی سے آنے والی بلند لہروں نے جوہری پاور پلانٹ سے بجلی کی سپلائی بند کر دی تھی اور اس کے ٹھنڈا کرنے کے نظام کو بند کر دیا تھا، جس سے اس کے تین ری ایکٹروں نے بھی کام کرنا بند کر دیا تھا، جس سے علاقے میں وسیع پیمانے پر تابکاری پھیل گئی تھی اور نتیجاً علاقے میں رہنے والے لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ اس سانحے کو 1986 میں ہونے والے چرنوبل حادثے کے بعد دنیا میں بدترین جوہری سانحہ قرار دیا گیا۔

جاپانی حکومت نے فوکوشیما اور اس کے نواحی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے تقریباً تین سو ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ تاہم پلانٹ کے گرد بہت سے علاقے انتہائی درجے کی تابکاری کی وجہ سے ابھی تک قابل رسائی نہیں ہیں۔ ابھی تک چالیس ہزار کے قریب رہاشی سانحے کے بعد واپس نہیں آ سکے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں نے حال ہی میں حادثے کے دسویں سال کے اختتام پرفوکوشیما کا دورہ کیا تا کہ وہاں پر ہونے والی تعمیر نو کے منصوبوں کا جائزہ لے سکیں۔

پلانٹ میں تباہ ہونے والے تین جوہری ری ایکٹروں میں ابھی تک نو سو ٹن پگھلا ہوا جوہری ایندھن موجود ہے۔ جسے وہاں سے ہٹانا خاصا دقت طلب کام ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کام میں تیس سے چالیس سال کا عرصہ لگے گا، جبکہ ناقدین اس تخمینے کو خوش امیدی قرار دیتے ہیں۔

جوہری پاور پلانٹ کی سٹوریج فیسلٹی (فائل فوٹو، اے پی)
جوہری پاور پلانٹ کی سٹوریج فیسلٹی (فائل فوٹو، اے پی)

سانحے کے وقت سے، ری ایکٹروں کو ٹھنڈا رکھنے والا پانی آلودہ ہو چکا ہے ۔ وہ اپنے کنٹینروں سے مسلسل رِس رہا ہے اور زیر زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔ پانی کو پمپ کر کے اوپر لے جا کر صاف کیا جا رہا ہے، کچھ آلودہ پانی نکالا یا دوبارہ قابل استعمال بنایا جا چکا ہے ،لیکن باقی کا پانی ابھی ایک ہزار کے قریب بڑے ٹینکوں میں موجود ہے۔

سانحے کے فوری بعد بہت سا آلودہ پانی تہہ خانوں سے رس کر سمندر میں شامل ہو چکا ہے۔ تاہم، جاپان کے سرکاری ادارے ٹیپکو کا کہنا ہےکہ بڑے رسنے والے مقامات کو بند کیا جا چکا ہے، جبکہ سب سے زیادہ تابکاری کا حامل آلودہ پانی پلانٹ کے دو تہہ خانوں میں بند ہے۔ تاہم اب بھی ریڈی ایشن کی تھوڑی سی مقدار سمندری پانی میں شامل ہو رہی ہے، گو کہ یہ مقدار کم ہے اور سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ساحلی علاقے سے پکڑی گئی مچھلی کھانے کے لئے محفوظ ہے۔

سرکاری ادارے ٹیپکو کا کہنا ہے کہ اسے یہاں گنجائش پیدا کرنے کے لئے آلودہ پانی کی سٹوریج والے ٹینکس سے نجات حاصل کرنی ہوگی تاکہ ایسی فیسیلیٹیز تیار کی جاسکیں جہاں اس پگھلے ہوئے مواد اور دیگر ملبے پر تحقیق کی جا سکے۔ اس وقت یہاں پانچ لاکھ ٹن ٹھوس تابکاری مواد موجود ہے، اور ہر روز تابکاری کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دس سال گزرنے کے بعد بھی جاپان کی حکومت کے پاس اس ریڈیو ایکٹو ملبے سے مکمل نجات حاصل کرنے کا کوئی جامع حل یا ٹیکنالوجی موجود نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG