رسائی کے لنکس

logo-print

مستقبل کے بہترین اور بدترین روزگار


زندگی کے ہر شعبے میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس کی ایپ کی مانگ بھی بڑھ رہیہے۔ فائل فوٹو۔

تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بہت کچھ نیا ہو رہا ہے اور بہت سی چیزیں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ روزگار کے سلسلے میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی پرکشش ملازمتیں آنے والے برسوں میں تاریخ کا حصہ بن جائیں گی اور ان شعبوں میں روزگار ڈھونڈنے والے مارے مارے پھرتے نظر آئیں گے۔ لیکن کچھ شعبے ایسے بھی ہیں جن کی قدروقیمت میں اضافہ ہو گا اور ان سے وابستہ افراد بھاری معاوضہ پائیں گے۔

ماہرین نے بدلتی دنیا کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہےجن کی آنے والےبرسوں میں بہت مانگ ہو گی۔

مالیاتی امور سے متعلق ایک ویب سائٹ کپلنگر ڈاٹ کام کی ایڈیٹر سٹیسی ریپکان کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل پر غور کیا جائے تو میرا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں موبائل فون سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز بن جائے گا اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کا عمل دخل ہو گا۔ اس لیے میں کہہ سکتی ہوں کہ موبائل فون کی ایپ بنانے والوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

اس وقت امریکہ میں موبائل فون کی ایپ بنانے والے اوسطاً ایک لاکھ ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے 10 برسوں کے دوران ایپ بنانے والوں کی آمدنی کم از کم 30 فی صد تک بڑھ جائے گی۔

کپلنگر ڈاٹ کام کے ایک تجزیے کے مطابق مستقبل کا ایک اور منافع بخش شعبہ طب کا ہے۔ امریکہ میں اس وقت ایک پریکٹیشنر نرس کی سالانہ اوسط آمدنی ایک لاکھ تین ہزار ڈالر ہے۔ آن لائن میگزین کا کہنا ہے کہ اگلے 8 برسوں کے دوران ان کی اوسط آمدنی 35 فی صد تک بڑھ سکتی ہے۔

میگزین ایڈیٹر ریپکان کہتی ہیں کہ نرسوں اور طبی عملے کی مانگ اور آمدنیوں میں متوقع اضافے کی وجہ یہ ہے کہ بہتر طبی سہولتوں اور دیکھ بھال کی وجہ سے دنیا بھر میں اوسط عمر بڑھنے کے ساتھ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھوں کو بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں زیادہ طبی دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے۔ بوڑھوں کی تعداد بڑھنے سے ان کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ کرنے والوں کی مانگ اور ان کے معاوضوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

کپلنگر میگزین نے مستقبل میں زیادہ مانگ اور زیادہ معاوضے کی10 ملازمتوں کی نشاندہی کی ہے، ان میں سے تقریباً نصف کا تعلق میڈیکل کے شعبے سے ہے، جن میں نرسیں، ڈاکٹر، اسسٹنٹ ڈاکٹر، فزیو تھراپی کے ماہرین اور میڈیکل سروسز کے منتظمین شامل ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ 15 سے 20 سال کے بعد دنیا بھر،خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں آبادی کا ایک بڑاحصہ 65 سال سے زیادہ عمر کے افرادپرمشتمل ہو گا۔

آن لائن میگزین نے مستقبل کے 10 بہترین روزگاروں میں مالیات، مارکیٹنگ، کمپیوٹر سسٹمز اور انفارمیشن سیکورٹی کے ماہرین کو شامل کیا ہے۔ رپیکان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں کمپیوٹر پرانحصاربڑھ جائے گا اور کمپیوٹر سسٹمز چلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے اور انہیں ہیکرز سے بچانے والوں کی ضرورت میں اضافہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خرید و فروخت کے انداز میں تبدیلی آئے گی اور وہی کاروبار پھلیں پھولیں گے جن کی باگ ڈور فنانشل اور مارکیٹنگ کے ماہرین کے ہاتھوں میں ہو گی۔

کپلنگر ڈاٹ کام نے 10 ایسے شعبوں کی نشاندہی بھی کی ہے جو آنے والے برسوں میں یا تو دم توڑجائیں گے یا لڑکھڑاتے ہوئے چلیں گے۔ ان سے منسلک ملازمتوں کی گنجائش مزید سکڑ جائےگی اور ان کےمعاوضے بھی کم ہو جائیں گے۔

میگزین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مٹنے والے زیادہ تر شعبے وہ ہیں جن کی طلب مسلسل گھٹ رہی ہے، مثال کے طور پر گھڑیاں۔ جب گھڑیاں خریدنے والے ہی نہیں رہیں گے تو ان کی مرمت وغیرہ کرنے والوں کو روزگار کہاں سے ملے گا۔ اسی طرح بہت سے ایسے پیشے ختم ہو جائیں گے جن میں کم تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی جگہ خودکار مشینیں اور روبوٹ لے لیں گے اور صرف اعلیٰ تربیت یافتہ کارکنوں کی ہی گنجائش باقی رہ جائے گی۔

کپلنگر میگزین کا کہنا ہے کہ آنے والے دور میں صرف انہی افراد کو روزگار ملے گا جن کے پاس کوئی ہنر،اس کی تربیت اور مہارت ہو گی۔

کپلنگر نے مستقبل کی منافع بخش اور دم توڑتی ہوئی ملازمتوں کا تعین جاب مارکیٹ کی طلب اور دیگر عوامل کی روشنی میں کیا ہے۔ لیکن یہ تخمینے حتمی نہیں ہیں کیونکہ مارکیٹ کی طلب اور معاشرتی رویے دونوں ہی بدلتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG