رسائی کے لنکس

logo-print

اجتماعی زیادتی کی شکار مختاراں مائی 17 سال سے انصاف کی منتظر


فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں 17 سال قبل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی کی اپیل ابتدائی سماعت کے لئے پیش کی گئی جس پر کارروائی اس ماہ کے آخر تک ملتوی کر دی ہے۔

مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لئے 17 برس سے جدوجہد کر رہی ہیں اور وہ اس جدوجہد سے اب پیچھے نہیں ہٹ سکتیں۔

پنجاب کے ایک قدیم اور اہم شہر ملتان کے قریب واقع گاؤں ’میروال‘ سے تعلق رکھنے والی مختاراں مائی اُن افراد کو 2002 سے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے کوشاں رہی ہیں جنہوں نے اُن کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی۔

اجتماعی زیادتی گاؤں کی پنچایت کے حکم پر کی گئی تھی۔ زیادتی کرنے والے 14 مشتبہ افراد میں سے 6 کو ذیلی عدالت کی طرف سے موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں جبکہ باقی 8 افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔

سزائے موت پانے والے 6 افراد نے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر دی اور اعلیٰ عدالت نے اُن میں سے پانچ افراد کو 2005 میں رہا کر دیا جبکہ چھٹے شخص کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

مختاراں مائی نے اُن کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جسے سپریم کورٹ نے 2011 میں مسترد کر دیا۔

اس کے 8 سال بعد سپریم کورٹ نے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کے لئے اُن کی درخواست کی سماعت آج بدھ کے روز شروع کی تاہم سرسری سماعت کے بعد عدالت نے اسے 20 روز کے لئے ملتوی کر دیا ہے تاکہ ملزمان کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے وقت دیا جا سکے۔

ملزمان اس سماعت میں کسی وکیل کے بغیر حاضر ہوئے تھے۔

مختاراں مائی پر اس کیس میں ملزموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے اور اپنے الزامات واپس لینے کے لئے شدید دباؤ ڈالا گیا جس سے اُنہوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔

اُنہیں متعدد ممالک نے پناہ دینے کی بھی پیشکش کی تھی تاہم اُنہوں نے اپنا علاقہ اور اپنا ملک نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اُنہیں بین الاقوامی اداروں اور خود حکومت پاکستان کی جانب سے عطیات دئے گئے جس سے اُنہوں نے پاکستانی خواتین کی بہبود اور تعلیم کے لئے مختاراں مائی ویمنز ویلفیئر آرگنازیشن قائم کی۔

مختاراں مائی خود ناخواندہ ہیں اور اُنہوں نے اپنی اس کمزوری کا احساس کرتے ہوئے اپنے گاؤں میں خواتین کے لئے ایک ہائی سکول قائم کیا جس میں خود اُنہوں نے بھی پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔

اُن کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے متعدد مشتبہ افراد کی بچیاں اب اسی سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

تاہم مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ اُن کے ساتھ زیادتی کرنے والے مشتبہ افراد میں سے کسی نے بھی اب تک ندامت یا پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے بعد جب اُن سے سوال کیا گیا کہ وہ اس اپیل کے بارے میں پر اُمید ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ اُنہیں واقعی انصاف ملے گا یا نہیں۔

ایک معروف امریکی شو بز جریدے نے مختاراں مائی کو اُن کی بہادری اور مسلسل جدوجہد کی بنا پر سال کی بہترین خاتون کا خطاب دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG