رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں باغیوں کے ایک گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری فورسز نے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں زہریلی کیمیائی گیس کے حامل بیرل بم سے حملہ کیا جس سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لیکن اس دعوے کے سامنے آتے ہیں شام کے سرکاری ٹی وی نے اس تردید کی اور کہا کہ مشرقی غوطہ کے باغی اپنے خاتمے کے قریب ہیں اس لیے وہ جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتہ کو کہا کہ شام کے شہر دوما میں مبینہ جوہری ہتھیاروں کے حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبریں "ہولناک" ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ "بین الاقوامی برادری کی طرف سے فوری ردعمل کا تقاضا کرتا ہے۔"

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم 'سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق دوما میں 11 افراد حملے کے بعد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے جب کہ مجموعی طور پر 70 افراد ایسے ہی حالات میں جان سے گئے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ یہ کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ تھا۔

طبی امداد کی ایک غیر سرکاری تنظیم 'سریئن امریکن سوسائٹی' کے مطابق مبینہ طور پر کلورین بم سے دوما کے ایک اسپتال پر حملہ کیا گیا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے، زہریلے مواد کے حامل بم سے دوسرا حملہ ایک قریبی عمارت پر کیا گیا۔

ادھر شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ثنا' کا کہنا تھا کہ دوما میں باغی گروپ جیش الاسلام "کیمیائی حملے" کی جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے تاکہ شامی فوج کی علاقے میں پیش قدمی میں رخنہ ڈالا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG