رسائی کے لنکس

logo-print

گیٹس فاؤنڈیشن کا بھوک کے خاتمے کے لیے معاونت دگنی کرنے کا اعلان


ہر سال لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کی اس موت کا سبب دوران حمل ان کی ماؤں کو ملنے والی کم غذائیت بھی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر رفاہ عام اور بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک موقر تنظیم گیٹس فاؤنڈیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ آئندہ چھ سالوں میں بھوک کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 77 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کرے گی۔

یہ رقم فاؤنڈیشن کی طرف سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے موجودہ عزم سے دو گنا زیادہ ہے۔

اس بات کا اعلان فاؤنڈیشن کی روح رواں ملنڈا گیٹس نے برسلز میں کیا جہاں انھوں نے یورپی رہنماؤن پر زور دیا کہ وہ خواتین اور بچوں کی غذائیت کو ایک ترجیح بنائیں۔

"پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہونے والی اموات میں تقریباً ہر ایک کی بنیادی وجہ غذائی قلت ہے۔ اب تک اس غذائیت کے معاملے پر دنیا میں بہت ہی کم سرمایہ لگایا گیا۔ آج ہم اسے تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں۔"

فاؤنڈیشن کے مطابق اس رقم کا زیادہ حصہ بھارت، ایتھیوپیا، نائیجیریا، بنگلہ دیش اور برکینافاسو میں خرچ کیا جائے گا جہاں غذائی قلت کی صورتحال گمبھیر ہے اور یہاں مثبت تبدیلی کا موقع موجود ہے۔

بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی نجی تنظیم ہے جس کی مالیت 40 ارب ڈالرز ہے۔

اس کا مقصد ترقی پذیر ملکوں میں غربت اور امراض سے نمٹنا ہے۔

ہر سال لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کی اس موت کا سبب دوران حمل ان کی ماؤں کو ملنے والی کم غذائیت بھی ہے۔

ملنڈا گیٹس کا کہنا تھا کہ "عطیات دینے والے بہت سی یورپی تنظیمیں بھی اب غذائیت کو ترجیح دی رہی ہیں جو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ 2030 تک بچوں کی اموات کی شرح کو نصف حد تک کم کرنے میں معاون ہوگی۔"

برسلز میں اعلان کردہ فنڈنگ کا اہداف میں خواتین اور لڑکیوں کو حمل سے پہلے مدد فراہم کرنا اور ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG