رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ: حماس کی آمادگی کے باوجود، شدید لڑائی بھڑک اٹھی


مسٹر نیتن یاہو نے اس بات کا عہد کیا کہ اسرائیل اپنے عوام کی حفاظت کی خاطر تمام ضروری اقدامات کرے گا

جنگ بندی کی دوسری تجویز سامنے آنے کے فوری بعد، غزہ میں اتوار کے روز لڑائی نے شدت اختیار کر لی، ایسے میں جب حماس کے شدت پسندوں نے اسرائیل پر راکیٹ برسائے اور اسرائیلی افواج نے محصور فلسطینیوں پر سخت حملے کیے۔

اِس سے قبل اتوار کو حماس نےکافی تاخیر سے 24 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا۔

لیکن، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی ٹیلی ویژن نیوز شوز میں بتایا کہ شدت پسند اِس کی خلاف ورزی پر تلُے ہوئے ہیں، جب کہ جنگ بندی ابھی شروع ہونے ہی والی تھی اور وہ انٹرویو دینے میں مصروف تھے۔

غزہ میں فلسطینی شہری آبادی کی ہلاکتوں میں آنے والے اضافے کے بارے میں مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اُنھیں اِس بات کا احساس ہے کہ اِس 20 روزہ تنازعے کے حوالے سے عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہوسکتی ہے۔ تاہم، اُنھوں نے اس بات کا عہد کیا کہ ’اسرائیل اپنے عوام کی حفاظت کی خاطر تمام ضروری اقدامات کرے گا‘۔

تشدد کی اِن تازہ کارروائیوں سے پہلے، دونوں فریق نے ہفتے کو شروع ہونے والی 12 گھنٹے کی جنگ بندی کی پابندی کی۔

اسرائیل نے جنگ بندی میں 24 گھنٹے کی توسیع کی تجویز پیش کی، جسے حماس نے مسترد کیا۔ تاہم، بعدازاں، شدت پسندوں نے کہا کہ وہ عید الفطر کے تہوار کی چھٹیوں سے قبل جنگ بندی پر تیار ہیں۔


اسرائیل نے کہا کہ وہ سرنگوں کو بم سے اڑانے کا کام جاری رکھے گا، جسے استعمال کرتے ہوئے، بقول اُس کے، شدت پسند ہتھیار اور جنگجو اسرائیلی ریاست کے اندر روانہ کرتے ہیں۔ اور مسٹر نیتن یاہو نے حماس پر الزام لگایا کہ اسرائیل مقررہ اہداف پر ہی حملہ کرتا ہے، لیکن شدت پسند شہریوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلالے، اور اسرائیل اور مصر غزہ کا محاصرہ ختم کر دیں۔

گذشتہ کئی سالوں میں، اسرائیل اور اُس کے عرب ہمسایوں کے درمیان ہونے والی جھڑپیں مہلک ترین معرکہ آرائی ثابت ہوئی ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اب تک ہلاکتوں کی تعداد 1050 سے تجازو کر گئی ہے، جس میں زیادہ تر تعداد شہریوں کی ہے، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اُس کے 43 فوجی اور تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

پوپ فرینسس نے روم کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں خطاب کے دوران، اسرائیل، غزہ، عراق اور یوکرین میں جنگ و جدل کے خاتمے پر زور دیا۔ اُنھوں نے جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے بچوں کی ہلاکت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا، ’اسے بند کیا جائے۔ میں دل کی گہرائی سے کہتا ہوں، اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔ برائے کرم، اسے بند کیا جائے‘۔

XS
SM
MD
LG