رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزینوں کے لیے تربیتی کورس کا اجرا


ستار کاکڑ

افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی کو ششوں میں تیز ی کے ساتھ ہی عالمی امدادی اداروں نے بھی انہیں اپنے ملک میں باعزت روزگار فراہم کر نے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں پناہ گزینوں کے عالمی ادارے اور پاکستان کی وفاقی حکومت کے ایک ذیلی ادارے کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت چھ ماہ کے عر صے میں 25 جوانوں کو ادارہ مختلف قیمتی پتھروں کی شناخت اور قیمتی پتھروں کو تراش کر نگینے بنانے کی تر بیت دی جائے گی۔

پاکستان جیمز اینڈ جیولری کمپنی کے صوبائی سربراہ بشیر آغا نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے این ایچ سی ار نے افغان پناہ گزینوں کو قیمتی پتھروں کی شناخت اور تراش خراش کی تر بیت فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں باعزت روزگار کمانے کے قابل بنایا جا سکے۔

تراشے ہوئے پتھر
تراشے ہوئے پتھر

نیشنل ووکیشنل اور ٹیکنکل ٹر یننگ کمیشن (NACTTC) کے تعاون سے 25 افغان اور 25 مقامی نو جوانوں کو چھ ماہ کی مختصر کورس کرائے گا جس کے تمام اخراجات ادارے کو پناہ گزینوں کا عالمی ادارہ ادا کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ معاہد ے کے مطابق افغان اور مقامی جوانوں کو قیمتی پتھروں کی پہچان، انہیں تراش کر نگینے بنانا، جیولری میں لگانا، پتھروں پر آرائشی نقش نگاری یا ڈیزائن بنانے کی تربیت دی جائے گی۔

معاہد ے کے تحت اس وقت ادارے میں 10 افغان مرد اور 15 خواتین تربیت حاصل کر رہی ہیں اور جون کے آخر میں ان کا کورس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد انہیں اسناد اور سرٹیفیکیٹ دیے جائیں گے۔

پتھر کو تراشا جا رہا ہے۔
پتھر کو تراشا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت کے اس ذیلی ادارے نے چند سال پہلے افغانستان کے ایک نجی ادارے راہا سے کے تعاوں سے بھی بعض کچھ نوجوانوں کو تر بیت دی تھی۔

ادارے کا کہنا کہ اب وہ نہ صر ف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا کے کئی ممالک سے بھی قیمتی پتھرپاکستان میں لا کر ان سے نگینے بنا رہے ہیں جو یورپ اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں زیورات سازی میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین افغانستان میں جواہرات اور قیمتی پتھروں کا ایک بڑا خزانہ قرار دیتے ہیں جن میں زمرد، کٹ لنگ، یاقوت ، لاجور کافی مشہور ہیں۔

زیر تربیت خواتین زیورت بنا رہی ہیں
زیر تربیت خواتین زیورت بنا رہی ہیں

پاکستان کی طرف سے اپنے ہاں موجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے مطالبات میں حالیہ مہینوں میں شدت آئی ہے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے رواں ماہ کے دوران جرمنی کے شہر ميونخ میں سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کے موقع پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر زور دیا تھا جب کہ افغان صدر اشرف پاکستان میں رہنے والے پناہ گزینوں کو آئندہ دو برسوں میں واپس لانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG