رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں نظر انداز کی جانے والی لڑکیوں کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ


بھارت میں مردم شماری کے دوران ایک اہلکار گھر پر نشان لگا رہا ہے۔ فائل فوٹو

بھارت میں جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو بیشتر والدین کو بیٹے کی ہی خواہش ہوتی ہے اور بیٹیوں کی پیدائش پر بہت سے گھرانوں میں خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا۔

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ اس وقت بھارت بھر میں 2 کروڑ 10 لاکھ ایسی بچیاں موجود ہیں جنہیں پیدائش کے بعد سے نظر انداز کر دیا گیا اور بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے آج پیر کے روز معیشت کے بارے میں سالانہ سروے رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بچیوں کی پیدائش سے بچنے کیلئے اسقاط حمل کے اقدامات عام ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب بھارت میں عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے۔ مردم شماری کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق اب ہر 1000 مردوں کے مقابلے میں 940 خواتین موجود ہیں۔

سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے گھرانوں میں جہاں بچیوں کی پیدائش ہو رہی ہے وہاں اُس وقت تک مزید بچے پیدا کرنے کا رجحان عام ہے جب تک کوئی لڑکا پیدا نہ ہو جائے۔ لڑکے کی پیدائش کے بعد عام طور پر لوگ مزید بچوں کی خواہش نہیں رکھتے۔

بھارت کے مختلف علاقوں میں اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے بجائے لڑکے پیدا کرنے کیلئے خواتین پر شدید نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے اور جلد سے جلد اُن کی شادی کر دی جاتی ہے۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے بہت سے امیر اور متول گھرانوں میں بھی لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ وہ خاندان کے کاروبار یا جائیداد کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اگرچہ قانون کے مطابق لڑکیاں بھی یہ ذمہ داریاں نبھا سکتی ہیں، لیکن اُنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

لڑکوں کو ترجیح دئے جانے سے اب بھارت بھر میں 2 کروڑ 10 لاکھ ایسی لڑکیاں موجود ہیں جنہیں نہ تو مناسب خوراک ملتی ہے اور نہ ہی تعلیم جبکہ لڑکوں کو یہ تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG