رسائی کے لنکس

logo-print

'دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغان پناہ گزینوں کی واپسی ضروری'


جنرل قمر جاوید باجوہ۔ فائل فوٹو

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں دہشت گردوں کی کوئی منظم موجودگی نہیں ہے لیکن اب بھی مختلف رنگ و نسل کے دہشت گرد افغان پناہ گزین بستیوں، سرحدی علاقوں میں پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے ہفتہ کو اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی ضروری ہے۔

"آج میں فخر اور اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری طرف دہشت گردوں کا کوئی منظم کیمپ نہیں ہے۔ تاہم مختلف رنگ و نسل کے دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں اب بھی ان کے سلیپر سیلز ہیں اور یہ پہاڑوں، سرحدی علاقوں اور چند بڑے شہروں کے علاوہ 54 پناہ گزین کیمپوں میں چھپے ہیں۔"

جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی تقریباً 27 لاکھ افغان پناہ گزینون کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان کے بقول تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک ان کیمپوں کو اپنی بھرتیوں کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

"یہ وقت ہے کہ ان پناہ گزینوں کو وقار کے ساتھ واپس بھیج دیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کا یہی واحد راستہ ہے کہ کوئی بھی ہماری میزبانی اور سرزمین کو افغانستان میں فساد کے لیے غلط استعمال نہ کر سکے۔"

امریکہ اور افغانستان یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ عسکریت پسند پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں عدم استحکام کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور کابل اپنے ہاں ہونے والے تقریباً ہر دہشت گرد حملے پر اسلام آباد کی طرف انگشت نمائی کرتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس پاکستانی علاقے میں گزشتہ برس ہونے والے 130 دہشت گرد حملوں میں سے 123 کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا۔

"ہم کابل کی مشکلات کو سمجھتے ہیں اور اسی لیے ہم ان پر الزام نہیں لگاتے، لیکن افغانستان میں عدم استحکام ہمیں بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ کابل میں ایک طاقتور ترین اتحاد کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔"

دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ پاکستان نے القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کو شکست دی لیکن ان کے بقول ان عسکریت پسند گروپوں کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشی کی بجائے نیٹو کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی صورتحال سے متعلق ناکامی اور تعطل کی وجوہات کا جائزہ لے۔

میونخ میں ہونے والی اس تین روزہ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے فوجی اور سول عہدیدار شریک ہیں جس میں دنیا کو درپیش سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG