رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل ڈیوڈ پٹریاس کی تقرری اور افغان جنگ


رولنگ سٹون میگزین میں افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل اسٹینلی مک کرسٹل کے حوالے سے شائع ہونے والے توہین آمیز بیانات پر ان کے استعفے کے بعد صدر اوباما نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو افغانستان میں امریکی افواج کا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ ماہرین اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ تبدیلی افغانستان، پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔

رولنگ سٹون کو دیے گئے اس انٹرویو میں جنرل اسٹینلی مک کرسٹل نے صدر اوباما کی انتظامیہ کے لیے اہانت آمیز جملے استعمال کیے۔ جس کے بعد انہوں نے اس پر ندامت کا اظہار کیا مگر اتنا کافی نہ تھا۔

صدر اوباما نے بدھ کے روز نائب صدر جوزف بائیڈن، وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کے باہرجنرل مک کرسٹل کے استعفے کو منظور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا اس لیے نہیں کر رہے کہ ان کے اور جنرل مک کرسٹل کے درمیان پالیسی پر کوئی اختلاف ہے۔ بلکہ جنرل مک کرسٹل کا رویہ ایسا نہیں جیسا کہ امریکہ کے ملٹری کمانڈر کا ہونا چاہیے تھا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ مجھے یہ قدم اٹھاتے ہوئے افسوس ہوا مگر یہ افغانستان میں ہمارے مشن، ہماری فوج اور ہمارے ملک کے لیے درست فیصلہ ہے۔ مجھے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو افغانستان میں کمانڈ لینے کے لیے نامزد کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ اس سے ہمیں وہ رفتار اور قیادت ملے گی جس کی ہمیں جیتنے کے لیے ضرورت ہے۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے جیمز کارافانو کا کہنا ہے کہ جنرل پیٹریاس ،جنرل مک کرسٹل کے باس ہیں اور یقیناً جانتے ہیں کہ افغانستان میں کیاہو رہا ہے وہ حکمتِ عملی کی تیاری میں شامل تھے اور وہ موجودہ حکمتِ عملی پر یقین رکھتے ہیں۔

جنرل اسٹینلی مک کرسٹل ایسے وقت میں اپنے عہدے سے الگ ہوئے ہیں جب امریکی اور نیٹو افواج قندھار میں طالبان کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس آپریشن کے آغاز میں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔

جیمز کارافانو واشنگٹن کے قدامت پسند تھنک ٹینک ہیرٹیج فاونڈیشن میں دفاعی امور کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپریشن کا جلد یا دیر سے شروع ہونا مسئلہ نہیں۔بلکہ نئے کمانڈر کے لیے مسئلہ وہی ہو گا جو جنرل مک کرسٹل کے لیے تھا ۔ جس میں دو چیزیں غیر حقیقی تھیں۔ ایک امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کی تاریخ۔ ہمیں فوج اس وقت نکالنی چاہیے جب اس کی وہاں ضرورت نہ ہو نہ کہ کسی طے شدہ تاریخ پر۔ کیونکہ اس سے طالبان ،افغان عوام اور پاکستان کو غلط پیغام ملتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنرل پٹریاس کا مقصد وہی ہو گا جو صدر اوباما کا ہے۔ یعنی طالبان کوشکست دے کر ایک محفوظ اور مستحکم افغان معاشرے کا قیام اور القاعدہ کا خاتمہ۔

جنرل پیٹریاس کو افغانستان میں امریکی افواج کا کمانڈر نامزد کرتے ہوئے صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی لیڈرشپ میں تبدیلی ہر گز یہ اشارہ نہیں کہ افغانستان کے لیے امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG