رسائی کے لنکس

logo-print

حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں افغانستان مدد کرے: راحیل شریف


پاکستانی فوج کے سربراہ نے صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور جان کیمبل سے کہا کہ وہ اس بے رحم حملے میں ملوث عناصر تک پہنچنے اور انھیں نشانہ بنانے میں تعاون کریں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق افغان قیادت اور جنرل جان کیمبل سے ہونے والی بات چیت میں چارسدہ میں یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے بعد کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ نے صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور جان کیمبل سے کہا کہ وہ اس بے رحم حملے میں ملوث عناصر تک پہنچنے اور انھیں نشانہ بنانے میں تعاون کریں۔

بیان کے مطابق اب تک کی تحقیقات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی پر حملے کو کنٹرول افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کا ایک کارندہ کر رہا تھا جو کہ افغانستان سے حاصل کردہ موبائل فون کنکشن استعمال کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ حملے کے بعد بدھ کی شب پشاور میں نیوز کانفرنس کے دوران ’آئی ایس پی آر‘ کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ تھا کہ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک دہشت گرد کے مارے جانے کے بعد بھی اُس کے موبائل فون پر افغانستان سے ٹیلی فون آ رہا تھا۔

باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت طالب علموں کی تھی۔

فوج کے مطابق حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو مار دیا گیا۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے زیرانتظام اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بھی پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ اس کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG