رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان کا امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق


جنرل راحیل شریف نے اپنے ایک روزہ دوے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغان قیادت کے درمیان کابل میں اتوار کو ہونے والی اہم ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اُن عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو امن و مصالحت کے عمل میں شرکت سے انکار اور تشدد کی راہ اختیار کریں گے۔

جنرل راحیل شریف نے اپنے ایک روزہ دوے میں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ وہ عناصر جو تشدد کے راستے پر چلیں گے اُن سے مشترکہ طور پر طے کیے گئے لائحہ عمل کے تحت نمٹا جائے گا۔

بیان کے مطابق افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کے لیے کی جانی والی کوششوں کے سلسلے میں چار فریقی اجلاس کا پہلا دور آئندہ ماہ ہو گا۔

ان چار ملکوں میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ چین اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

تاہم نا تو اس سلسلے میں کسی تاریخ کا اعلان کیا گیا اور نا ہی یہ بتایا گیا کہ یہ اہم اجلاس کہاں ہو گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں منعقدہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ امن و مصالحت کے عمل کے لیے یہ چاروں ملک مل کر کام کریں گے۔

سابق سفارت کار اور تجزیہ کار رستم شاہ مہمند سے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے عمل میں پیش رفت صرف اُسی صورت ممکن ہے جب طالبان اور افغان حکومت اپنے اپنے موقف میں لچک کا مظاہرہ کریں۔

’’پیش رفت اُس وقت ہو گی جب دونوں طرف سے کچھ لچک ہو گی۔ (افغان) حکومت یہ اصرار نا کرے کہ آئین اور پارلیمان مقدس ہیں اور ان کو تسلیم کیا جانا ہے۔ جب کہ طالبان یہ اصرار نا کریں کہ وہ 2001ء کی پوزیشن پر جا سکتے ہیں۔‘‘

کابل میں پاکستانی فوج کے سربراہ اور افغان قیادت کے درمیان ملاقات میں مشترکہ سرحد کی نگرانی بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے ایک سے دوسرے ملک افراد یا گروہوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحدی نگرانی کے طریقہ کار کو موثر بنانے پر زور دیا۔

دونوں ہی جانب سے اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان فوری رابطے کے لیے ہاٹ لائن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بگرام کے ہوائی اڈے پر افغانستان میں امریکہ اور بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے بھی ملاقات کی۔ جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور کے علاوہ افغانستان میں قیام امن کے لیے مصالحتی عمل پر بھی بات چیت کی گئی۔

XS
SM
MD
LG